سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 33 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 33

33 33 سے دیا جاتا تھا ) میری طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب نے کیا تو اماں جان نے فور فر مایا کہ کون ٹیکہ کر رہا ہے؟ جب بتایا گیا کہ ڈاکٹر مرزا مبشر احمد تو فرمانے لگیں درد کی ہے۔نیز جب ایک مرتبہ ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ ٹیکہ کرنے لگیں تو اماں جان نے پیار سے فرمایا کہ اگر مجھے درد کی تو مارونگی تمہیں۔ایک دن جب میں ٹیکہ کرنے لگا اور ٹیکہ سے پہلے بازو پر پٹی باندھی تو فرمانے لگیں " کیا کرنے لگے ہو؟“ میں نے عرض کی ٹیکہ۔فرمایا: تمہیں اسی لئے ڈاکٹری پڑھائی تھی ؟ یہ فقرہ بھی مادرانہ شفقت اور پیار کا تھا کہ بجائے بیماری میں آرام دینے کے سوئیاں چھورہے ہو۔تمام بیماری کے دوران میں حضرت اماں جان کے ہوش درست رہے۔اگر چہ آپ اکثر ضعف کی وجہ سے آنکھیں بند کر کے لیٹی رہتی تھیں مگر جب بھی بلایا جاتا آپ آنکھیں کھول کر جواب دیتیں۔اور بعض دفعہ تو آپ خود بھی آنکھیں کھول کر اپنے اردگرد بغور دیکھتیں اور لوگوں کو پہچانتیں۔ایک دن میں سرہانے کی طرف کھڑا تھا کہ آپ نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھ کر فرمایا۔ڈاکٹر صاحب ہیں؟“ میں نے کہا ” اماں جان میں ہوں منور احمد ، جس پر آپ نے فرمایا۔’ہاں ڈاکٹر منور احمد۔یعنی یہ کہ آپ نے پہلے مجھے پہچان کر ہی ڈاکٹر کہا تھا۔اس بیماری ، سے قبل بھی حضرت اماں جان اکثر شام کے وقت گھر کے لڑکوں کو ( جواکثر عزیزان مرزار فیع احمد ، مرزا حنیف احمد ، میر محمود احمد ہوتے تھے ) بلا کر قرآن شریف اور احادیث سنا کرتی تھیں۔اس بیماری کے دوران میں بھی کئی دفعہ آپ نے خود کہہ کر قرآن شریف سنا۔حتی کہ وفات کے دن بھی صبح کے وقت جب میں ورید میں ٹیکہ شروع کرنے لگا تو آپ نے فرمایا: قرآن شریف سناؤ۔میں نے عرض کی اماں جان ٹیکہ کر لوں پھر سُن لیں۔جس پر آپ نے اثبات میں سر سے اشارہ کیا۔چنانچہ ٹیکہ کے بعد میر محمود احمد نے قرآن شریف پڑھ کر سنایا۔اور وفات سے ایک گھنٹہ قبل یعنی رات ساڑھے دس بجے بھی اماں جان نے فرمایا۔قرآن شریف سناؤ۔جس پر میر محمود احمد صاحب نے قرآن شریف پڑھ کر سنایا۔( آپ نے سورہ مریم کی آیات نمبر سے لیکر آیت نمبر ۴۱ ، انا نحن نرث الارض و من عليها والينا يرجعون تک پڑھ کر سنائیں۔مؤلف )