سیرت حضرت اماں جان — Page 29
29 22 نے کسی اور تکلیف کا اظہار نہ کیا بلکہ رفع حاجت وغیرہ کے لئے بھی آپ کموڈ وغیرہ پر تشریف لے جاتی تھیں اور بظاہر کوئی خاص کمزوری اس بخار سے معلوم نہ ہوتی تھی۔یہ حالت تقریباً دو ہفتے یا کچھ زائد رہی اور جب بخار کا کلی افاقہ نہ ہوا تو مجھے فکر لاحق ہوا کہ کسی اور قسم کا بخار نہ ہو۔چنانچہ انہیں دنوں حضرت اماں جان کو پیشاب کی تکلیف محسوس ہوئی تو میں نے پیشاب کا ٹیسٹ کرایا اور اس میں گردوں کی سوزش کا اثر پایا گیا جس کا علاج فوری شروع کر دیا گیا۔یہ انداز آبارہ تیرہ مارچ کی بات ہے۔یعنی بخار شروع ہونے سے تیسرا ہفتہ گزر رہا تھا۔اب حضرت اماں جان کو جلد جلد کمزوری ہونی شروع ہوگئی تھی اور غذا بھی بہت ہی کم ہوگئی تھی۔( نوٹ : اور پہلے بھی چند ماہ سے بھوک بہت کم ہو کر غذا برائے نام ہی رہ گئی تھی۔صرف سیال چیز ہار کس وغیرہ آسانی سے لے لیا کرتی تھیں وہ بھی کم مقدار میں۔) چنانچہ میں نے مکرم ناظر صاحب اعلیٰ اور مکرم صاحبزادہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کو لکھ کر عرض کیا کہ حضرت اماں جان کی بیماری لمبی ہوتی جارہی ہے اور کمزوری بڑھ رہی ہے لہذا لا ہور سے کسی ڈاکٹر کو بلا کر دکھانا ضروری ہے۔اس پر فوراً ایک آدمی لاہور مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب کے پاس بھجوایا گیا کہ وہ ڈاکٹر کرنل ضیاء اللہ یا ڈاکٹر بلوچ کو لے کر فور ار بوہ آجائیں۔چنانچہ ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب ڈاکٹر کرنل ضیاء اللہ کولیکر 23 مارچ 1952 ء کور بوہ آئے۔مکرم شیخ بشیر احمد صاحب بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ڈاکٹر ضیاء اللہ صاحب نے حضرت اماں جان کو دیکھا اور کچھ ادویہ تجویز کیں جو علاج گردوں کی سوزش کے لئے پہلے کیا گیا تھا اس سے اتفاق کیا اور آئندہ کے لئے بھی کچھ ترمیم کے ساتھ اُسی کی ہدایت دی۔نیز کچھ مزید علاج تجویز کیا۔مگر اب حضرت اماں جان کی حالت دن بدن کمزور ہوتی جارہی تھی۔دل میں کمزوری کے آثار شروع ہو چکے تھے اور خون کا دباؤ گرنا شروع ہو گیا۔پاؤں پر ورم ہو گیا اور غذا برائے نام لیتی تھیں۔چھبیس مارچ کو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ سفر سندھ سے تشریف لائے اور سیدھے حضرت اماں جان کے پاس تشریف لے گئے۔حضرت اماں جان نے آپ کو پہچانا اور فرمایا: کب آئے ؟ حضرت امیر المومنین کے ساتھ مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب بھی آگئے تھے لہذا اس کے بعد سے وہ بھی علاج کے مشورہ میں آخر تک شامل رہے۔جب حضرت اماں جان کی حالت سنبھلتی نظر نہ آئی تو 29 مارچ 1952ء کو پھر لاہور سے