سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 30 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 30

30 ڈاکٹر غلام محمد صاحب بلوچ کو بلوایا گیا۔وہ مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب کے ساتھ آئے اور حضرت اماں جان کا معائنہ کیا اور دوائیں وغیرہ تجویز کیں۔ایک دوا ایسی تھی جو آسانی سے دستیاب نہ ہو سکتی تھی۔لہذا اس کے لئے فوری کراچی امیر جماعت صاحب کو تاردی۔نیز لاہور سے اس کے حصول کی کوشش کی تاکید مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب کو کی۔انہوں نے لاہور جا کر فوری تلاش کر کے دوا بھجوائی۔نیز کراچی سے بھی خاص آدمی دوالے کر تیسرے دن پہنچ گیا۔ڈاکٹروں کے مجوزہ علاج تمام جاری تھے مگر اماں جان کی علالت میں کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔عارضی طور پر اگر کسی دن کسی علامت میں تخفیف ہوتی تو دوسری علامت زیادہ شدت اختیار کرگئی۔تنفس کے لئے آکسیجن گیس با قاعدہ سنگھانی شروع کر دی گئی تھی۔سیال غذادی جا رہی تھی اور کوشش کر کے جتنی مقدار بھی حضرت اماں جان بغیر کوفت کے لے سکتی تھیں دی جاتی۔اکثر ایسا ہوتا کہ چار اونس دودھ یا شور با ایک ایک گھونٹ پیتے پیتے آدھ گھنٹہ لگ جاتا بلکہ چند بارگھنٹہ بھر صرف ہوا۔کبھی ذرا اچھی ہوتیں تو نسبتاً جلد لے لیتی تھیں۔ٹھنڈے پانی کی خواہش اور پیاس بہت رہتی۔تقریباً ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن آدمی لاہور بھجوایا جاتا جو حضرت اماں جان کی حالت کی تفصیل پر مشتمل خط ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب کے پاس لے جاتا اور مکرم ڈاکٹر صاحب وہاں ڈاکٹروں سے مشورہ کر کے اگر مزید ہدایات ہوتیں تو مجھے لکھتے جب حالت کسی صورت سنبھلتی نظر نہ آئی تو پھر لاہور سے ڈاکٹر محمد یوسف صاحب کو دکھانے کے لئے بلوایا گیا وہ پانچ اپریل رات کے وقت آئے اور حضرت اماں جان کو دیکھا۔اُس دن حضرت اماں جان کے دل کی حالت بہت ہی تشویش ناک تھی۔مکرم ڈاکٹر محمد یوسف صاحب نے معائنہ کے بعد کچھ علاج تجویز کیا ( یہاں یہ لکھنا ضروری ہے کہ تمام ڈاکٹروں کا تجویز کردہ علاج تقریباً ایک ہی تھا سوائے معمولی فرق کے ) اور چلے گئے۔ایک ٹیکہ جو کہ انہوں نے دل کی بے قاعدگی دور کرنے لئے تجویز کیا (جس کی منہ کے ذریعہ دینے والی دوا تو اس دن صبح سے ہی شروع کر دی گئی تھی ) حضرت اماں جان کو خاکسار نے فورا لگایا۔نیز وریدوں میں گلوکوز کے ٹیکے جو تجویز ہوئے اس کا پہلا ٹیکہ مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب نے اُسی وقت خود حضرت اماں جان کو کیا۔