سیرت حضرت اماں جان — Page 28
888 28 پیاری اماں جان! آخری بیماری اور وفات از مکرم حضرت ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب خلف الرشید حضرت مصلح موعود کی آخری بیماری سے قبل حضرت اماں جان کی طبیعت پوچھنے میں آپ کے پاس جایا کرتا تھا مگر آپ نے کبھی کسی قسم کی خاص تکلیف کا اظہار نہیں فرمایا۔سوائے اس کے کہ کبھی کوئی معمولی عارضہ ہوا اور آپ نے اس کے متعلق کہہ کر مجھ سے دوا طلب فرمائی۔مگر چھپیس فروری کی شام میرے دل پر ایک گہرا اثر چھوڑ گئی ہے جبکہ آپ کی اس بیماری کا علم ہوا جو بالآخر آپ کو ہم سب سے ہمیشہ کے لئے جدا کرگئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر پچیس فروری ۱۹۵۲ء عشاء کے قریب حضرت امیر المومنین کا پیغام مجھے ملا کہ حضرت اماں جان کو آکر دیکھ جاؤں کیونکہ آپ کی طبیعت خراب معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ میں اُسی وقت حضرت اماں جان کے گھر گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب چونکہ چھپیں تاریخ صبح چار بجے سندھ تشریف لے جارہے تھے اس لئے حضرت اماں جان کو ملنے آئے اور مصافحہ کرنے پر حضرت اماں جان کے ہاتھ گرم معلوم ہوئے تو حضرت صاحب کو خیال ہوا کہ ان کو بخار ہے اور اس وجہ سے مجھے کہلا بھیجا۔میں نے حضرت اماں جان کو دیکھا آپ کو اُس وقت سو کے قریب بخار تھا اور کوئی تکلیف بظاہر نہ تھی۔چنانچہ بخار کا نسخہ لکھ کر اور دوا بنوا کر میں آ گیا۔اس کے بعد میں روزانہ صبح شام دونوں وقت حضرت اماں جان کو دیکھنے جاتا۔شروع میں بخار ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن زیادہ ہوتا۔( یعنی سوڈگری کے قریب یا اس سے کچھ زیادہ ) اس کے علاوہ کوئی اور تکلیف نہ تھی۔لہذا اغلب خیال ملیر یا بخار ہی کا تھا۔اور اس و جہ سے اس کا ہی علاج کیا گیا۔مگر بخار کو کلی آرام نہ آیا البتہ ٹمپر یچر نارمل ہو جاتا تھا۔بعض دفعہ چو میں اڑتالیس گھنٹے بھی نارمل رہتا۔مگر بخار پھر ہو جاتا تھا۔اس دوران میں حضرت اماں جان