سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 242 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 242

242 اپنے ہاتھ سے دوسروں کے کام کرنا محترمه آمنہ بیگم اہلیہ چوہدری عبداللہ خان صاحب حضرت اماں جان کو میری والدہ مرحومہ ( ہاجرہ بیگم بنت مفتی فضل الرحمن صاحب مرحوم جو حضرت خلیفہ اول کی نواسی تھی ) سے بہت ہی محبت اور انس تھا۔۱۹۲۱ ء میں جب ہم حضرت اماں جان کے مکان واقعہ بہشتی مقبرہ میں چلے گئے۔تو ہر عید پر حضرت اماں جان کے ہاں سے عیدی کپڑے اور کھانا آیا کرتا تھا۔میری والدہ کے ہر بچہ کی پیدائش پر حضرت اماں جان نفوراً تشریف لاتیں۔اور بچے کو دیکھتیں اور بعض دفعہ پیار سے بچے کولوری بھی دیتیں۔اور ہمیں اکثر نصیحت آموز کہانیاں سنا تیں۔ہمارے بہشتی مقبرہ کے مکان میں رہنے کے عرصہ میں ( ہم وہاں ۱۹۲۱ء میں گئے۔اور وہاں ہی ۱۹۲۷ء میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا۔انا للہ ) جہاں تک میری یاد کام کرتی ہے۔حضرت اماں جان ہر صبح (الا ما شاء اللہ ) نماز کے بعد باغ میں تشریف لاتیں۔آپ کے ساتھ اکثر دو ایک عورتیں ہوتیں۔پہلٹ سیدھی حضرت مسیح موعود علیہا الصلوۃ والسلام کے مزار پر تشریف لے جاتیں۔پھر واپسی پر ہمارے گھر دروازے پر آ کر نہایت پیاری آواز سے میری والدہ کا پکارتیں۔حاجرہ ! اور اس کے ساتھ ہی بلند آواز سے ”السلام علیکم فرماتیں۔اور پھر اندر آجاتیں۔تھوڑی دیر بیٹھتیں والدہ سے باتیں کرتیں۔سب کا حال پوچھتیں۔اور پھر واپس تشریف لے جاتیں۔ایک دفعہ حضرت اماں جان سردیوں میں تشریف لائیں۔میری والدہ دودھ بلور ہی تھیں۔میرا چھوٹا بھائی اور ہا تھا۔حضرت اماں جان نے نہایت شفقت سے میری والدہ کو اٹھا دیا۔اور فرمایا اٹھ کر بچے کو لے لو اور خود بیٹھ کر دودھ بلونا شروع کر دیا۔اور پھر خود ہی مکھن نکالا۔بکھرے ہوئے برتن اٹھوائے۔اور واپس تشریف لے گئیں۔اس کے بعد تو حضرت اماں جان سکا معمول ہو گیا۔کہ ہر روز اپنے ساتھ کسی ایک عورت کو محض میری والدہ کو اس کام میں مدد دینے کے لئے ساتھ لاتیں۔اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار کی طرف جاتی ہوئی ہمارے ہاں