سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 243 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 243

243 چھوڑ جاتیں۔اس عرصہ میں وہ عورت دودھ بلوتی رہتی۔اور واپسی پر عورت کو ساتھ لے کر واپس تشریف لے جاتیں۔یہ شفیقانہ سلوک ایک عرصے تک جاری رہا۔میری والدہ کی وفات کے بعد جلد ہی میری شادی ہو گئی۔اس لئے پھر مجھے حضرت اماں جان سے وقفوں کے بعد ملنے کا موقعہ ملا۔لیکن اتنی دیر نہیں۔کہ دو تین مہینے سے زیادہ وقت گزر جائے۔حضرت اماں جان کو میں نے اکثر ( جب بھی آپ مجھ سے میری والدہ کی وفات کے بعد ملی ہیں ) رقت اور پیار کے ساتھ ان کا ذکر کرتے سنا۔اور ایک عجیب کرب کے ساتھ ہمیشہ فرماتیں: یا اللہ میری ہاجرہ کے بچوں پر رحم کیجیو“ اور ہر چھوٹے اور بڑے بچے کو ہمیشہ سینہ سے لگا کر فرما تھیں۔یہ میری ہاجرہ کے بچے ہیں۔“ ۱۹۲۹ ء میں میری شادی ہوئی۔حضرت اماں جان دو دن پہلے آکر ہمارے ہاں رہیں۔اور نہایت شفقت اور توجہ سے میرا خیال رکھا۔ایک رات پہلے محترمہ بے بے جی ( والدہ صاحبہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب ( قادیان تشریف لے آئے تھے۔بے بے جی محترمہ اور حضرت اماں جان بہت رات تک باتیں کرتی رہیں۔رات کے کوئی بارہ ایک بجے کے قریب بے بے جی اور حضرت اماں جان میرے پاس آئیں۔میں جاگ رہی تھی۔اماں جان نے نہایت پیار سے پوچھا۔”کیوں“ میرے کانوں میں اس وقت تک وہ ” کیوں گونج رہی ہے۔میں روتے ہوئے اماں جان سے لپٹ گئی۔مجھے پانی پلوایا۔خاص طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی مہندی دیکھی۔جہاں سے اتر گئی تھی۔وہاں اپنے ہاتھ سے دوبارہ لگائی۔اور بہت دیر تک میرے پاس بیٹھی مجھے پیار کرتی رہیں۔ال1 حضرت اماں جان کو بے بے جی محترمہ سے دلی تعلق اور لگاؤ تھا۔ان کے آنے پر میں ہمیشہ دیکھا۔کہ بہت مسرت کا اظہار فرماتیں۔ان کے لئے خاص طور پر خود کھانے وغیرہ کا اہتمام کرتیں۔میری شادی پر بہت سی چیزیں بطور تحفہ دیں۔پھر عین جب میں رخصت ہونے لگی۔تو چپکے سے میرے ہاتھ میں کچھ روپے دیئے۔اور فرمایا: ”لڑکیوں کو بعض دفعہ ضرورت پڑ جاتی ہے۔یہ تم اپنے پاس ہی رکھنا“ شادی کے بعد جب میں واپس آئی تو میرے ساتھ میری شفیق بے بے جی بھی