سیرت حضرت اماں جان — Page 241
241 حیران ہو جاتے کہ آپ دہلی کی رہنے والی اور ایک معزز خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون ہیں اور دیہاتی کام مثلاً دودھ بلونا، چرخہ کاتنا، کپاس بیلنا، نواڑ بہتا کس خوبی سے کرتیں۔سیدا کثر بہنوں نے دیکھا ہوگا کہ حضرت اماں جان آپ بہت سی کپاس منگوا تیں اور بڑے اہتمام سے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے بیلتیں۔پھر اکثر جب عورتیں دیکھتیں کہ آپ خود کام کر رہی ہیں تو ثواب کی خاطر بڑی التجاؤں کے ساتھ آپ سے کام لے کر کرتیں۔۱۰۹ والدہ مکرم جمال الدین صاحب آف چنیوٹ آپ کی طبیعت میں غصہ اور چڑ چڑا پن نام کو نہ تھا کسی غلطی یا کسی نقصان کو کمال تحمل سے برداشت کر جاتیں۔نقصان کرنے والا خود ہی ندامت سے پانی پانی ہو جاتا۔آپ جس گھر بھی جاتیں مجسمه همدردی و غمگساری اور مشفق ماں کی حیثیت سے جانتیں اور ہمارے گھر یلو معاملات میں از راه شفقت اس طرح دخل دیتیں گویا آپ حقیقی ماں ہیں۔آپ کو خود بھی یہ احساس تھا کہ میں اس سب کی ماں ہوں اور آپ کے اس سلوک میں امیر غریب کا کوئی امتیاز نہ تھا۔فجر کی نماز کے بعد جب میرے ہاں تشریف لاتیں تو کئی دفعہ عجیب مواقع پیدا ہو جاتے ایک دن میں بیٹھی ہوئی دودھ بلور ہی تھی کہ آپ تشریف لے آئیں۔آتے ہی مسکراتے ہوئے فرمایا ”لڑکی اٹھو میں بلوتی ہوں۔میں برکت کی خاطر اور ادب کو لو ظ ر کھتے ہوئے فوراً اٹھ گئی اور آپ دودھ بلو کر مکھن نکالنے لگیں۔اور مجھے فرمایا ” اس طرح بلو یا کرو ایک دن میں چکی پر مکی کا آٹا پیس رہی تھی۔ارادہ تھا کہ خود پیس کر حضرت اماں جان کے لئے منگی کی روٹیاں پکا کر لے جاؤنگی اتنے میں آپ تشریف لے آئیں۔فرمایا: لڑ کی کیا کر رہی ہو۔اٹھو میں چکی پیستی ہوں کچھ میرے بازؤں میں بھی زور آئے۔میں نے عرض کیا نہیں اماں جان یہ آپ کی شان نہیں ! مگر مجھے اصرار کر کے اٹھا دیا اور خود تھوڑی دیر تک چکی چلائی۔110