سیرت حضرت اماں جان — Page 237
237 عطا فرماتیں اور تبرک میں زائد کھانا ڈال کر مرحمت فرماتیں۔۱۰۱ از مکرم احمد اللہ خان صاحب آف کوئٹہ میرے والدہ مرحوم ۱۸۹۹ء میں شاہجہانپور سے ہجرت کر کے اپنے بیوی بچوں سمیت جب قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے از راہ نوازش الدار میں ہمیں جگہ دی جہاں ہم ایک لمبا عرصہ یعنی ۱۹۱۴ ء تک مقیم رہے۔ہجرت کے وقت میری عمر چند ماہ کی تھی۔میری والدہ مرحومہ کے بیان کے مطابق وہ حضرت مسیح موعود کے مطبخ میں کام کیا کرتی تھیں۔کام کے دوران میں جب مجھے چار پائی پر لٹا دیتیں اور میں شیر خوار بچہ ہونے کی وجہ سے جب کبھی رونے لگتا تو حضرت اماں جان یہ دیکھتے ہوئے کہ میری والدہ کھانا پکانے میں مشغول ہیں۔تو از راه شفقت مجھے گود میں اٹھا کر لوری دیتیں۔جب میں ۷۱۸ برس کی عمر کا تھا تو ایک دفعہ مجھے سخت بھوک لگی۔میں اپنی والدہ مرحومہ سے روٹی مانگ رہا تھا۔میری والدہ مجھے ہر بار جھڑک دیتیں غالباً اس وجہ سے کہ جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت اماں جان اور دیگر گھر کے افراد کھانا تناول نہ فرمالیں وہ مجھے کھانا پہلے کیسے دیدیں۔اس اثناء میں مجھے بھوک نے جو تنگ کیا۔تو رونے لگ گیا۔حضرت اماں جان اپنے کمرے کے سامنے صحن میں ٹہل رہی تھیں۔مجھے روتے دیکھ کر فوراً میری والدہ سے فرمایا کہ لڑکا رورہا ہے۔اسے روٹی کیوں نہیں دیتیں۔میری والدہ نے جواباً کہا کہ ابھی تو کھانا تیار نہیں ہوا۔یہ جواب سنتے ہی یکدم حضرت اماں جان مطبخ میں آئیں اور میری والدہ کے پاس ہی دوسرے چولھے پر جو سٹی کی ہنڈیا میں دودھ تھا۔اس میں سے ایک کٹورے میں اوپر اوپر سے ملائی اتار کر اور کچھ دودھ ڈال کر میرے پاس لے آئیں اور نہایت ہی ہمدردانہ رنگ میں وہ بھرا ہوا کٹورا میرے ہاتھ میں دے دیا۔حضرت اماں جان کی یہ مادرانہ شفقت اور قریب رہنے کی وجہ سے ان کی دعاؤں کے اثر ہی کا نتیجہ ہے کہ آج میں اور میری اولاد خدا کے فضل و رحم سے دینی ودنیوی انعامات سے مالا مال ہیں۔اللھم زد فزد۔دعا ہے کہ مولیٰ کریم حضرت اماں جان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔اور اپنے دائمی افضال و نعماء کی بارش نازل فرما تا ر ہے آمین ثم آمین۔۱۰۲ محترمه ام رشید صاحبه ربوه میں ایسی عمر میں قادیان گئی تھی جب کہ میں چھوٹی عمر کی تھی اور سوائے حضرت اقدس کے مقدس گھر