سیرت حضرت اماں جان — Page 236
236 کی عمر میں عطا فرمایا۔میری چھوٹی بہن کی عمر اس وقت پانچ ماہ کی تھی۔میری والدہ صاحبہ بتاتی ہیں کہ میں اور میری چھوٹی بہن عزیزہ امتہ المجیب کی ولادت خاص حضرت اماں جان کی دعا سے ہوئی۔جب میری والدہ صاحبہ ایران سے واپس آئیں تو ہم دونوں بہنوں کو آپ کے قدموں میں ڈال دیا۔حضرت مدوحہ نے بڑی شفقت اور محبت سے ہم کو یکے بعد دیگرے اپنی گود میں اٹھا لیا اور لمبی دعا فرمائی۔میری والدہ صاحبہ بتاتی ہیں کہ جب بھی ان کو ہمیں ساتھ لے کر حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا تو حضرت اماں جان نہایت محبت و پیار کا سلوک فرماتیں اور اکثر کھانے کی اشیاء مٹھائی ، پھل وغیرہ عطا کر کے اپنے سامنے بٹھا کر کھانے کا حکم دیتیں۔۱۹۳۹ء میں جب دوسری عالمگیر جنگ شروع ہوئی اور ہم ایران و عراق سے واپس قادیان آئے اور حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت اماں جان نے ہمیں بہت پیار کیا اور کھانے کے لئے مٹھائی وغیرہ دی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بجائے اپنے سامنے بٹھا کر کھلانے کے آپ فرماتیں کہ یہ چیز گھر لے جاؤ اور اپنے بہن بھائیوں میں مل کر کھاؤ۔ایک دفعہ ہم حضرت اماں جان کے دار مقدس میں حاضر ہوئیں تو آپ نے اپنے دست مبارک سے ایک چھکے میں سے جو آپ کے دالان میں لٹک رہا تھا آم نکال کر ہمیں کھانے کے لئے دیئے اور فرمایا گھر لیجا کر سب مل کر کھانا۔ایک دوسری دفعہ جب ہم حاضر ہوئیں تو آپ نے حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی ایک صاحبزادی صاحبہ کو ارشاد فرمایا کہ بیٹی ! آم کی قاشیں کر کے ان بچیوں کو دو چنانچہ آپ کے ارشاد کی تعمیل ہوئی اور ہمیں صاحبزادی صاحبہ نے قاشیں کاٹ کردیں۔صاحبزادی صاحبہ کی حیرانی کو دیکھ کر حضرت اماں جان نے فرمایا کہ یہ بھائی جی قادیانی کی نواسیاں ہیں۔صاحبزادی صاحبہ ہنس پڑیں اور عرض کیا کہ میں نے تو ان کو نہیں پہچانا۔جواباً فرمایا کہ تم چھوٹی تھیں اور یہ ایران میں رہ کر آئی ہیں۔کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ اندر سے ہمارے لئے چاکلیٹ ،سویٹ اور دیگر اسی قسم کی کھانے کی اشیاء لاتیں اور ہمیں عطا فر ماتیں۔آپ کی طبیعت میں جہاں وقار سنجیدگی اور رعب تھا وہاں سادگی بھی بے حد تھی۔چنانچہ ہم نے کئی دفعہ دیکھا کہ آپ باورچی خانہ میں بیٹھ کر ناشتہ یا کھانا تناول فرمارہی ہوتیں تو ہمیں بھی پلیٹوں میں کھانا ڈال کر سامنے بٹھا کر کھانے کا حکم دیتی تھیں۔میری والدہ صاحبہ کی خواہش پر تبرک بھی