سیرت حضرت اماں جان — Page 238
238 کے کسی اور گھر میں جانے کی اجازت نہ تھی۔سارا سارا دن حضرت ام المومنین کے پاس ہی کھیلاتی رہتی۔لڑکیوں کی تربیت کا ان کو خاص خیال رہتا اور پھر ہر بچے کو اپنی خدا داد فراست سے سمجھ لیتی تھیں کہ یہ بچہ یا بچی کیسی ہے۔حضرت صاحبزادہ میاں میاں شریف احمد صاحب کا سب سے پہلا مکان وہ تھا جہاں کہ بعد میں حضرت اُمّم طاہر رہتی تھیں اور ان کے کمرے میں اچار چٹنیاں مربے مرتبان میں بند رکھے ہوئے ہوتے تھے۔خادمائیں بہت سی ہوتیں اور دوسری لڑکیاں جن کی کفالت خاص طور پر حضرت اماں جان ہی کرتی تھیں وہ بھی تھیں۔ایک دفعہ بہت سا حصہ اچار چٹنیاں اور مربوں کا ختم ہو گیا۔سب کو بلایا گیا اور ایک لڑکی مجھے بھی ساتھ لے گئی جب حضرت اماں جان کی دور بین نگاہ مجھ پر پڑی میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے پاس کھڑا کرلیا اور فرمایا کہ تم یہاں ان میں کیوں کھڑی ہوا اور کس نے کھڑا کیا ہے۔میں نے اس کا نام بتایا تو آپ نے نرم الفاظ میں اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔اگر کسی بچے یا بچی کو تنبیہ کرنی ہوتی تو نرم الفاظ اور مختصر الفاظ میں کرتیں اگر کوئی ملنے والی آتیں تو اس کا حال دریافت فرماتیں کچھ ارشاد فرماتیں پھر آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ کی حمد میں مشغول ہو جاتیں۔پھر آج تک آپ کے ملنے میں کوئی چیز روک نہیں بنی سوائے چند دن بیماری کے اور وہ بھی طبی لحاظ سے منع تھا۔کوئی آٹھ سال کا عرصہ ہوا کہ میں بیما تھی اور کمزور ہوگئی تھی۔شام کو آپ کی زیارت کے لئے گئی تو نہایت شفقت سے آواز دی کہ مسعودہ ادھر آؤ پاس گئی فرمانے لگیں کہ کیا تم نے کوئی بیماری لگالی ہے۔سب باتوں کو خدا پر چھوڑ دواور کسی قسم کا غم یا فکر نہ کرو۔خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے تمہارا اس طرح کرنا خدا تعالیٰ کی ناشکری ہے ۱۰۳ از مکرم ابوالمبارک محمد عبداللہ صاحب حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے لفظ لفظ سے محبت اور شفقت ٹپکتی تھی۔آپ نے جب بھی مجھے بلایا ہوتا۔تو خادمہ کو یہ نہ کہتی کہ عبد اللہ کو بلاؤ بلکہ ہمیشہ فرمایا کرتیں۔”ہمارے عبداللہ کو بلاؤ ۳۸ سال کا زمانہ گزر چکا ہے مگر میرے کانوں میں ابھی تک ”ہمارے عبداللہ کو بلاؤ کی آواز آ رہی ہے۔حضرت اُم المومنین کا مقام دینی اور دنیوی بہت بلند تھا۔ساتھ ہی اس کے یہ بات بھی آپ سے خاص تھی۔کہ وہ بچوں سے بچوں کے لائق اور بڑوں سے ان کے مقام کے مطابق سلوک کرتیں۔بچوں کی چھوٹی سی چھوٹی خواہش کو بھی کمال خوشی سے پورا کرتیں۔ایک دفعہ آپ