سیرت حضرت اماں جان — Page 234
234 بیوی سیدہ جمیلہ خاتون صاحبہ نے فورا ہی لڑکیوں کے ہاتھ بچے کو حضرت اُم المومنین کی خدمت میں بھیج دیا۔حضرت اُم المومنین نے از راہ شفقت بچے کو گود میں لے کر گھٹی دی اور اور دعا فرمائی اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے ایک کان میں آذان اور دوسرے میں تکبیر کہی۔اس بچے کا نام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے رفیق احمد شاہ رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلائے۔آمین !۔حضرت خلیفہ اسیح اول نے عاجز سے ذکر کیا کہ ہم نے حضرت میر ناصر نواب صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ بتلا سکتے ہیں کہ آپ نے کونسی نیکی کی ہے کہ جس کے بدلہ میں آپ کی صاحبزادی حضرت مسیح علیہ السلام کے نکاح میں آئی۔انہوں نے جواب میں فرمایا کہ اور تو کچھ یاد نہیں صرف اتنا یاد ہے کہ جس دن سے یہ پیدا ہوئی اُس دن سے لیکر جس دن اس کو ڈولی میں ڈالا میں روزانہ یہی دُعا کرتا رہا کہ خدایا اس کو کسی نیک کے پلے باندھیں۔۹۴ مکرم اخوند فیاض احمد صاحب تحریر کرتے ہیں: اولاد کی گھر یلوزندگی میں دخل نہ دینا : ایک دفعہ خاکسار کی والدہ صاحبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں،ساتھ خاکسار کی نانی جان اہلیہ محتر مہ خان بہادر غلام محمد صاحب بھی تھیں۔نانی صاحبہ نے آپ سے پوچھ لیا کہ حضرت صاحب کی باری اس دن کہاں ہوگی۔تو جواباً فرمایا مجھے کیا معلوم حضرت صاحب کہاں ہوں گے۔ہم نے تو پالا پوسا۔پڑھایا لکھایا جوان ہوئے۔شادیاں کیں اور بیویوں کے حوالے کر دیا۔۹۵ مکرم محمد عبد اللہ صاحب نیلا گنبد لا ہور ۱۹۱۱ء کا ذکر ہے۔کہ میرے چچا عبدالمجید صاحب قادیان میں مدرسہ احمدیہ میں پڑھا کرتے تھے۔آموں کا موسم آیا۔تو اس سراسر رحمت و شفقت کے مجسمہ نے ایک ٹوکرا آموں کا بھر کر بورڈنگ میں چچا عبدالمجید صاحب کے پاس بھجوایا۔۹۶ از محترمه آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ کرامت اللہ صاحب ایک دفعہ پھر حضرت اماں جان گورداسپور تشریف لائیں۔اور ہمارے ہاں ہی قیام فرمایا اور ایک دن میرے سکول تشریف لے گئیں لڑکیوں کو مٹھائی کے لئے کچھ روپے مرحمت فرمائے استانی نے شکر یہ ادا کیا اور عرض کیا تکلیف کی کیا ضرورت تھی۔فرمایا میری بچی اس سکول میں پڑھتی ہے۔خوشی سے دے رہی ہوں آپ پر کوئی احسان نہیں کر رہی۔۹۷