سیرت حضرت اماں جان — Page 235
235 از مکرمه عزیز بخت صاحبہ اہلیہ مولانا غلام رسول را جیکی صاحب میں عزیز مبشراحمد تسلمہ اللہ کا چھلہ (چلہ ) نہا کر باہر نکلی اور بہشتی مقبرہ دعا کیلئے گئی۔سردار بی بی صاحبہ نے بچے کو اٹھایا ہوا تھا اور میں ساتھ تھی۔باغ کے پاس حضرت اماں جان کی زیارت ہوئی۔آپ نے بڑی محبت سے مبشر احمد کو گود میں اٹھا لیا اور دیر تک اس کو پیار کرتی رہیں اور دُعا دے کر شہر کی طرف روانہ ہوئیں۔۹۸ ۱۹۵۰ء کے جلسہ سالانہ کا موقعہ تھا۔کہ ایک روز میں اور میری چھوٹی بہن جس کی عمر اس وقت صرف تین چار سال تھی۔اور میری دو پھوپھی زاد بہنیں جن کی عمریں اس وقت صرف گیارہ اور نو سال کی تھیں۔اور خود میری عمر بھی گیارہ سال کی ہوگی۔حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی خدمت میں سلام عرض کرنے ک لئے حاضر ہوئیں۔آپ نے بڑی شفقت سے ہمیں اپنے سامنے بچھی ہوئی چار پائی پر بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔اس کے بعد خود اُٹھ کر کمرے کے اندر تشریف لے گئیں اور ایک آدھ منٹ کے بعد خادمہ کے ہاتھ میں ایک طشتری میں چلغوزے، اخروٹ، مالٹے اُٹھوا کر لے آئیں۔اور ہمارے سامنے رکھوا کر نہایت شفقت سے کھانے کا حکم دیا میری چھوٹی بہن نے اس لئے کہ وہ ذرا شوخ طبیعت ہے۔مجھے مخاطب کر کے آہستہ سے کہا۔آنسہ، چلغوزے نہ کھانا اور نہ اماں جان سمجھیں گی کہ یہ بھو کی لڑکیاں ہیں۔اس کی یہ بات حضرت اماں جان نے بھی سُن لی آپ بہت ہنسیں اور فرمانے لگیں۔بیٹی تم بے شک کھاؤ میں تمہیں بھوکی نہیں کہوں گی۔اس کے بعد ہم چند منٹ اور بیٹھی رہیں۔اور حضور سے ہم مختلف سوالات کرتی رہیں۔واپسی پر رخصت ہونے کی اجازت مانگی۔اور آپ نے ہم سب کے سروں پر دست شفقت پھرا۔اور ہمیں دعائیں دیں۔کہاں ہم چھوٹی چھوٹی غلام زادیاں اور کہاں حضور جیسی مقدس و مظہر عظیم الشان ہستی جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زوجیت کا شرف حاصل تھا۔لیکن ہماری خاطر داری کے لئے اس قدر پیرانہ سالی میں خود اُٹھ کر جاتی ہیں اور کھانے کی چیزیں فراہم کرتی ہیں۔اور پھر طبیعت میں بشاشت اس قدر ہے کہ ایک کم سن اور نا سمجھ لڑکی کی معصومانہ حرکت پر کسی غصہ کا اظہار نہیں فرماتیں بلکہ اس کو مزاح کا رنگ دے کر اُس پر خوب خوش ہوتی ہیں۔99 مکرمہ امتہ الکریم نصرت اہلیہ مولانا برکات احمد راجیکی صاحب مجھ خاکسار کو خدا تعالیٰ کے فضل نے حضرت اُم المومنین کی گود میں کھیلنے کا شرف پہلی بار سوا سال