سیرت حضرت اماں جان — Page 198
198 کہ حضور کو ہمارا کتنا خیال ہے۔پھر حضرت ام المومنین کی شفقت اور ان کی یا دا اپنے خادموں کے متعلق کتنی اور کیسی اچھی ہے۔۴۰ حضرت سیدۃ النساء کو ہمیشہ سیر کی عادت تھی۔اور آپ کی سیر بھی دراصل عبادت تھی۔آپ سیر کو تشریف لے جاتیں۔تو کبھی کسی کے گھر تشریف لے جاکر ان کا حال دریافت کرتیں۔ان کے لئے برکت کی دعائیں فرماتیں۔اور آپ کے تشریف لے جانے پر جو خوشی اور سرور اہل خانہ کو ہوتا اس کا اندازہ اور اس کی قدرو ہی محسوس کر سکتے ہیں۔عاجز کا مکان دارالانوار میں تھا۔اور کبھی آپ تشریف فرما ہوتیں۔اور میں گھر نہ ہوتا۔تو بعد میں مجھ کو علم ہوتا۔کہ حضرت اُم المومنین تشریف فرما ہوتیں۔تو مجھ کو اتنی خوش ہوتی۔کہ میں کافی دیر تک اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتا۔کہ ہمارے گھر میں تشریف لا کر انہوں نے ہمیں نوازا ہے۔اور گھر کو برکت بخشی ہے۔مکرم چوہدری مشتاق احمد باجوہ صاحب۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے والدہ مرحومہ کے بہت گہرے اور قریبی تھے۔انہوں نے کبھی کبھار اپنے مبارک قدموں سے ہمارے گھر کو بھی نواز نا شروع فرمایا۔آپ مسرت کے موقع پر ہماری مسرت میں شرکت فرما کر ہمارے لئے فخر کا ایک جذبہ پیدا کر دیتیں اور ہماری تکلیف میں اپنی ہمدردی اور تسکین آمیز کلمات سے اسے کم کرنے کا باعث ہوتیں۔مجھے یاد ہے کہ میری مرحومہ بہن رحمت بی بی صاحبہ کے ہاں سیف اللہ پیدا رض ہوا۔حضرت اماں جان خبر ملنے پر خود ہی تشریف لے آئیں۔اور بچہ کو اپنے دست مبارک سے گھٹی دی۔آپ کو کسی رسمی دعوت کی احتیاج نہ تھی۔آپ کے غلام کا گھر تھا اس لئے آپ کا اپنا ہی گھر تھا۔پس بچپن ہی سے اس محسنہ ماں کی محبت و احسانات کے نقوش قلب پر موجود تھے۔عمر کے ساتھ ساتھ احسانات بڑھتے اور نقوش گہرے ہوتے چلے گئے۔۱۹۴۵ء میں میرا انگلستان کے لئے روانہ ہونے کا وقت آیا۔حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے دروازہ پر حاضر ہوا اور الوداعی دعائیں لیں۔حضرت اماں جان نے از راہ کرم ایک لوٹا اور گلاس عطا فرمایا جو اس سفر میں میرے ہمراہ رہا اور اب تک محفوظ ہے۔ایک مبلغ احمدیت کا ہتھیار قرآن کریم ہی ہے۔میں نے اپنا خاص نسخہ حضرت اماں جان کی خدمت میں کلثوم اہلیہ ام کے ذریعہ بھجوایا اور درخواست کی کہ دعائیں فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس ہتھیار کو کامیابی سے استعمال