سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 199 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 199

199 کرنے کی توفیق بخشے۔کلثوم نے بتایا کہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے اس نسخہ کو محبت کے ساتھ ہاتھ میں لیا اور نہایت درد اور رقت کے ساتھ دعائیں فرمائیں۔حضرت اماں جان کے آنسو اس قرآن کریم پر بھی پڑے۔۴۲) از اہلیہ ابوالہاشم خان صاحب حضرت اُم المومنین ہر ایک سے شفقت اور مہربانی کا سلوک کیا کرتی تھیں۔خصوصاً غیر ملکی لوگوں کے ساتھ بہت ہمدردی رکھتی تھیں۔شروع میں جب ہم ابھی بنگال سے نئے نئے آئے ہوئے تھے۔اس وقت ہمارا اپنا مکان نہ تھا۔جب کبھی حضرت اماں جان کے پاس جاتی تھی۔تو وہ ہماری مکان کی تنگی کا احساس کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ اپنے میاں ( یعنی چوہدری ابوالہاشم صاحب جو کہ پنشن کے بعد حضور پرنور کے حکم کے ماتحت بنگال میں امیر جماعت کی خدمت بجالا ر ہے تھے ) کو جلدی بلواؤ۔اور مکان بنوالو۔آپ کی خاص توجہ اور دعا سے خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک فراخ مکان بنانے اور اس میں چھ سال تک رہنے کی توفیق عطا فرمائی۔حضرت اماں جان جب دارالانوار کی طرف سیر کے لئے جائیں۔تو اکثر ہمارے غریب خانہ پر تشریف لاتیں۔اور کچھ دیر آرام فرما تیں۔حضرت اماں جان میری لڑکیوں سے بھی بہت مشفقانہ سلوک کیا کرتی تھیں۔ان سے کبھی کبھی مختلف سلائی وغیرہ کی چیزیں بنوا کر استعمال فرماتی تھیں۔اور اس ذراسی خدمت پر بہت دعائیں دیا کرتی تھیں۔ان کی دعاؤں کی قبولیت کے ہم نے آج تک بہت سے نشانات دیکھے ہیں۔چنانچہ قادیان سے ہجرت کے بعد میری دوسری لڑکی عزیزہ عابدہ مرحومہ کے نکاح کے بعد خود میرے غریب خانہ پر تشریف لائیں اور عزیزہ کو گلے لگا کر فرمانے لگیں ”بیٹی ! میری کوئی نماز ایسی نہیں تھی۔جس میں میں نے تیرے لئے دعا نہ کی ہو۔اس کے بعد خود اپنے ہاتھ سے دعا فرما کر انگوٹھی پہنائی۔آج عزیزہ کی جدائی پر مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہورہی ہے۔کہ وہ ہم میں سے سب سے پہلے اماں جان سے جنت میں ملنے والی ہے۔۴۳ محبت اور دعا کے نمونے مکرمہ عزیز بخت صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب فرماتی ہیں: