سیرت حضرت اماں جان — Page 187
187 پہلے حضرت اماں جان میرے گھر تشریف نہیں لائی تھیں۔جب اماں جان کو دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا۔کہ دنیا کی سب سے بڑی نعمت میرے گھر میں آگئی ہے۔میں نے مقدور بھر خدمت کی۔اماں جان کچھ دیر تک ٹھہری رہیں۔پھر واپس چلی گئیں۔حضرت اماں جان کے اس ورود مسعود کی برکت سے خدا تعالیٰ نے اس دن کے بعد سے متواتر ہماری مدد کی۔اور ہم بتدریج اپنے مکان کی تعمیر کرتے رہے۔اس واقعہ کے کچھ عرصہ کے بعد خدا تعالیٰ نے ہماری مدد کی۔اور ہم نے ایک چھوٹا سا برآمدہ اس کو ٹھڑی کے سامنے بنا لیا۔حضرت اماں جان نے جب اُس کو دیکھا تو پھر تشریف لائیں اور فرمانے لگیں۔"برآمدہ بنانے کا تمہیں کیا فائدہ “ مطلب یہ تھا کہ تم کمرہ بنا لیتیں۔لیکن تم نے برآمدہ بنالیا ہے۔میں نے عرض کی۔کہ ابھی اتنی طاقت نہیں کہ کمرہ بناسکیں۔اس لئے ہم نے سوچا کہ برآمدہ بنالیں۔اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد ہمارے گھر کے ساتھ ہی ایک نیا مکان بنا۔تو اماں جان اُسے دیکھ کر تشریف لائیں اور مجھ سے فرمایا۔” یہ مکان تمہارا ہے میں نے بتایا کہ یہ مکان ہمارا نہیں۔تو اماں جان نے فرمایا تو تم کب بناؤ گی۔میں نے درخواست کی کہ ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ ہماری مدد فرمائے تا کہ ہم مکان بناسکیں۔تو اماں جان نے ایسی ہمارے لئے دعا کی۔کہ آج بھی جب یاد آتا ہے۔تو وہ دلکش منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔آپ نے اپنے دوپٹے کی جھولی اٹھائی۔اور تین دفعہ فر مایا۔”اے اللہ تو اسے توفیق دے کہ یہ مکان بنا سکے۔“ خدا تعالیٰ کے کام عجیب ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کی دعا سنتا ہے۔اور ان کو پورا فرما دیتا ہے۔ان دنوں میں نے ایک کمیٹی میں حصہ لیا ہوا تھا۔لیکن کون جان سکتا تھا۔کہ اس دفعہ میرے ہی نام وہ کمیٹی نکلے گی۔جب حضرت اماں جان نے دعا فرمائی۔تو اس کے چند دنوں کے بعد کمیٹی نکلی۔اور وہ میرے ہی نام کی تھی۔اس طرح خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے روپے کا انتظام کر دیا اور ہم مکان بنانے میں کامیاب ہو گئے۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے۔کہ حضرت اماں جان کو ہم غریبوں سے کس قدر ہمدردی اور محبت تھی۔اور آپ کو ہمارے حالات کے سنورنے کا کتنا خیال تھا۔۲۷