سیرت حضرت اماں جان — Page 188
188 دوسرں کی خوشی میں شریک اور اپنی اولاد کی طرح سلوک تاثرات محتر مہامہ المجید صاحبہ ایم۔اے اپنے عقیدت مندوں اور جماعت کے لوگوں کی دلداری کرنا ان کے غم اور خوشی میں حصہ لینا۔اُن سے شفقت کا سلوک کرنا اور ہر طرح سے اُن کی مدد کرنا حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے امتیازی خصائل تھے۔ہماری اماں جی ہمیں سنایا کرتی ہیں۔کہ جب اُن کی شادی ہوئی۔تو ہمارے نانا جان مکرم میاں امام دین صاحب سیکھوانی جو مولوی جلال الدین صاحب شمس کے والد تھے۔اور ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے۔اُنہوں نے ہماری اماں جی کی شادی کی تقریب پر حضرت اماں جان کو بھی مدعو کیا۔اُس وقت ہمارے نانا جان سیکھواں نامی گاؤں میں جو قادیان سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔سکونت پذیر تھے۔حضرت اماں جان ٹانگے پر گاؤں تشریف لائیں۔اور اماں جی کو خود دلہن بنایا۔اماں جی بتاتی ہیں۔کہ گاؤں کی اکثر ہندو عورتیں بھی حضرت اماں جان کی زیارت کے لئے آئیں۔اور آپ سے مل کر بہت خوش ہوئیں اور ان میں سے اکثر بڑی عقیدت کے ساتھ گڑ ، شکر ہتل اور ستوؤں کے تحائف بھی لائیں۔حضرت اماں جان نے ان کے تحائف کو قبول فرمایا۔اور پھر اماں جی کو بھی اپنے ساتھ ٹانگے میں بٹھا کر قادیان لائیں۔اماں جی بتا تیں ہیں۔کہ راستہ کچا ہونے کے سبب جب ٹانگے کو جھٹکا لگتا تھا۔تو آپ اپنے ہاتھوں سے مجھے تھام لیتی تھیں۔تاکہ میں رگر نہ جاؤں قادیان آنے پر حضرت اماں جان نے والد صاحب کا نام لے کر فر مایا۔کہ وزیر محمد کے ہاں چونکہ کوئی عورت نہیں ہے۔اس لئے دلہن کو میں اپنے گھر میں اُتاروں گی چنانچہ حضرت اماں جان نے اماں جی کو الدار میں ہی اُتارا۔اور کھانا وغیرہ کھلانے کے بعد انہیں رخصت کیا۔اس طرح آپ نے والد صاحب اور والدہ صاحبہ دونوں کی طرح سے مادرانہ شفقت کا اظہار فرمایا۔۲۸ مکرمہ حمیدہ صابرہ صاحبہ دختر حضرت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب بیان کرتی ہیں: آپ اپنی ملازم عورتوں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔اُن کی ہر ضرورت کو پورا فرما تیں اور اکثر انہیں