سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 186 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 186

186 کہ دل باغ باغ ہو جاتے۔اور دوسرے لوگوں کو رشک آتا۔جب میری والدہ خواہش کرتیں۔تو حضرت اُم المومنین خوشی سے گھر میں بیٹھ جاتیں۔اور گھر کی تمام باتوں سے واقفیت حاصل کرتیں اور دعا فرماتی تھیں۔والدہ اردگرد کی غیر احمدی عورتوں کو اکٹھا کر کے لاتیں۔تو حضرت اماں جان ان کو نہایت احسن طریق سے احمدیت سے روشناس کرا تیں۔جب میرے والد صاحب فوت ہو گئے۔تو دنیا میں جیتا جاگتا مقدس سہارا حضرت اُم المومنین ہی تھیں۔ہر قسم کا دکھ درد حضور کی خدمت بابرکت میں جا کر پیش کرتیں اور آپ کچھ اس طرح دلجوئی فرماتیں کہ دنیا کے ہر قسم کے غم بھول جاتے۔ایک دفعہ زمین کا مالیہ ادا کرنا تھا۔کوئی چارہ نہ تھا۔میری والدہ مرحومہ حضرت اُم المومنین کی خدمت میں پہنچیں۔اور عرض کیا۔آپ نے حسب ضرورت فور ارقم دے دی۔یہ تو صرف ایک واقعہ ہے۔ورنہ ہر قسم کے دکھ درد کا طلا و ماویٰ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا تھیں۔زیادہ تر بچوں کی بیماریوں کا علاج حضرت اُم المومنین کے تبرک سے کرتی تھیں۔رمضان ۱۳۷۰ھ میں جب میں دو تین سال کے بعد حضرت کی خدمت میں پیش ہوئی تو آپ با وجود نقاہت کے خادمہ کو دیکھ کر بے حد مسرور ہوئیں۔اور یہ معلوم کر کے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے آپ نے بڑی شفقت سے دس روپے مرحمت فرمائے ۲۶ از اہلیہ مولوی غلام نبی صاحب مصری میری زندگی میں کئی ایسے واقعات گزرے ہیں جن میں سے حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی غریبوں سے محبت معلوم ہو سکتی ہے۔۱۹۱۷ ء میں جب میری شادی ہوئی۔تو ہمارے پاس سفید زمین تھی۔لیکن اتنی طاقت نہ تھی کہ مکان بنا سکتے۔آخر ہم ایک کوٹھڑی بنانے میں کامیاب ہو گئے اور وہ بھی ایسی کہ چار دیوار میں کھڑی کر کے ان پر ایک چھت معمولی سی ڈال دی۔دروازہ کے لئے لکڑی بھی نہیں خرید سکے محض دروازہ کی جگہ چھوڑ دی۔ایک چھوٹی سے کھڑکی لگالی تا کہ ہوا آ سکے۔باہر کپڑے لٹکوا کر ایک پردہ سا بنا لیا تھا۔اماں جان نے کہیں وہاں سے گزرتے ہوئے دیکھا تو تشریف لے آئیں۔آپ کے ساتھ آپا امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ بھی تھیں۔آپ اندر تشریف لائیں اور کوٹھڑی دیکھنے لگیں۔حضرت اماں جان کے اس طرح تشریف لانے سے مجھے اس قدرخوشی ہوئی کہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔میں حضرت اماں جان کے گھر جایا کرتی تھی۔لیکن اس سے