سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 159 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 159

159 آن میں وہ کچھ سمجھا دیا کہ اس کے بعد کچھ سمجھنے اور سیکھنے کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی۔بس میرے لئے وہی کافی ہے۔جو کچھ میں نے دیکھا اور سمجھا ہی شاید ہی تمہیں نصیب ہو“۔میں اس پر بہت خوشی کا اظہار کرتا اور آپ کے ایمان پر مجھے رشک آتا اور آخر آپ کا جو مبارک انجام ہوا اس نے مجھ پر واضح کر دیا کہ واقعی حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی زیارت سے آپ کو قابلِ رشک درجہ اور ایمان حاصل تھا۔اور خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے مجسم صداقت وجود باجود کی زیارت سے کس قدر خوش نصیب روحوں نے اعلیٰ مدارج حاصل کئے۔اس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کو آخری ٹھکا نہ محض اپنے فضل سے قادیان کی مقدس سرزمین میں عطا فرمایا۔ہم سالہا سال قادیان میں رہے۔بچپن کے بعد جوانی آئی۔جوانی بیتی بڑھاپا آیا مگر معلوم نہیں آخری وقت کہاں آئے گا۔لیکن والدہ ماجدہ کا صدق و اخلاص جو حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے ذریعہ آپ کو حاصل ہوا خدا تعالیٰ نے اس قدر نوازا کہ ایک کو ردہ سے اُٹھا کر قادیان کی بابرکت سرزمین میں پہنچا دیا۔اب جبکہ ہم قادیان سے محروم ہیں اور اس کے دیکھنے کے لئے ترس رہے ہیں میرے تین چھوٹے لڑکے ، ایک جوان بیٹی اور والدہ صاحبہ ہمارے خاندان کی یادگار وہاں موجود ہیں۔اگر ہم مرے بھی وہاں نہ پہنچ سکے تو انشاء اللہ حشر اجساد کے دن یہ روحیں قادیان - ނ جب کھڑی ہوں گی تو ممکن ہے کسی لحاظ سے ہمارا نام بھی پکارا جائے۔غرض والدہ ماجدہ کو حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی زیارت کا موقع نصیب ہونا اور آپ کا احمدیت قبول کرنا مجھ پر حضرت اُم المومنین کا اتنا بڑا احسان ہے جس کا میں اندازہ بھی نہیں کرسکتا۔اس احسان کے نہایت شیریں ثمرات میں نے اس دنیا میں بھی بکثرت حاصل کئے اور اُمید ہے آخرت میں بھی خدا تعالیٰ مجھے محروم نہ رکھے گا۔اس کے مقابلہ میں ہم نے حضرت اُم المومنین کی کیا خدمت کی اور کیا کر سکتے ہیں ؟ خدا تعالیٰ سے ہی التجا ہے کہ آپ کے درجات بلند فرمائے اور قیامت تک آپ کے فیوض و برکات دنیا میں جاری رکھے۔آمین ۲۵