سیرت حضرت اماں جان — Page 158
158 خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے زیارت کرنے اور باتیں سننے کا اچھا موقع عطا کیا اور میری جو خواہش تھی وہ پوری ہو گئی یعنی آپ پر احمدیت کی صداقت کھل گئی۔آپ نے گھر آکر مجھے بتایا کہ حضرت صاحب کے گھر قدم رکھتے ہی میرا خوف اور تر دو تو بالکل دُور ہو گیا مگر اس کی جگہ حیرت اور استعجاب نے لے لی۔میں نے جس کو بھی دیکھا مجسم اخلاق پایا۔مجھے عزت و آبرو کے ساتھ ایسی اچھی جگہ بٹھایا کہ مجھے تو وہاں قدم رکھتے ہوئے بھی شرم آتی تھی۔ہر ایک نے محبت اور نرمی سے ہمارے ساتھ گفتگو کی اور میں حیران تھی کہ ہم ایسی دیہاتی عورتوں کے ساتھ یہ برتاؤ۔غرض میں نے اس گھر میں عجیب ہستیاں دیکھیں۔ایسی عجیب کہ ساری عمر میں کبھی نہ دیکھی تھیں۔اور بڑی بیوی صاحبہ (حضرت اُم المومنین ) کے متعلق کیا کہوں ان کا نورانی چہرہ دیکھ کر اور آپ کی چند ہی باتیں سن کر میں تو احمدی ہونے پر مجبور ہوگئی۔یہی جی چاہتا تھا کہ آپ کے پاس بیٹھی آپ کی باتیں سنتی رہوں۔لیکن دوسری عورتوں کے خیال سے آگئی کہ ان کو بھی زیارت کا موقع مل سکے۔والدہ ماجدہ اپنے گاؤں اور خاص کر اپنے گھر میں میرے ہوش سنبھالنے سے بھی پہلے احمدیت کا ذکر سنتی چلی آرہی تھیں۔ہمارے گاؤں کے چند معزز اصحاب ابتداء میں ہی احمدیت قبول کر چکے تھے اس وجہ سے موافقانہ اور مخالفانہ گفتگو اور وعظ ونصیحت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔شادی اور غمی کے موقع پر احمدیوں کے بائیکاٹ کا سوال بھی پیدا ہو جاتا تھا۔احمدیوں کو ستانے اور دکھ دینے میں بھی کمی نہ کی جاتی تھی۔سنجیدہ اور سمجھدار مرد عورتیں احمدیوں کی دینداری کا بھی اعتراف کرتے تھے اور ان کی خوبیوں کے قائل تھے لیکن والدہ صاحبہ اس بارے میں خاموش تھیں۔اگر مخالفت میں کوئی حصہ نہ لیتیں تو موافقت کے لئے بھی تیار نہ تھیں مگر حسن اتفاق سے جب خود قادیان جانے کا موقع ملا تو حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی پہلی ہی زیارت اور چند باتوں سے ایسا اثر ہوا کہ سالہا سال کے زنگ بالکل صاف ہو گئے۔احمدیت کی صداقت روز روشن کی طرح نظر آگئی اور ایک لمحہ کا تر ڈ دکئے بغیر احمدیت قبول کر لی۔اس کے بعد اپنی وفات تک ہر سال دو تین بار قادیان تشریف لاتیں۔اور میں نے بار بار احمدیت کے موٹے موٹے مسائل باتوں باتوں میں آپ کے سامنے عام فہم الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی۔آپ خاموشی سے سنتی رہتیں اور پھر یہ فرما دیتیں۔" مجھے تو حضرت بیوی صاحبہ نے ایک