سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 160 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 160

160 توکل علی اللہ اور استقلال حضرت اماں جان کی ایک دعا مکرم مولا نا چوہدری محمد شریف صاحب فاضل مربی سلسلہ بلا دعر بیہ ( مرحوم و مغفور ) تحریر فرماتے ہیں: آج سے ۴۴ سال قبل ۱۹۰۸ء میں بتاریخ ۲۶ رمئی بروز صد شنبہ لا ہور شہر میں حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام اپنے کام کو ختم کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رحلت فرمانے کے قریب تھے۔اور الرَّحِيلُ ثُمَّ الرّحِيلُ کا نقارہ بج رہا تھا۔اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ دعوت مل رہی تھی۔کہ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةٌ مَّرْضِيَّةٌ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ”اے روح جسے کوئی قلق واضطراب نہیں اور جس کی سب خوشیاں اپنے خدا سے وصال میں ہیں اپنے پیدا کنندہ کے پاس بخوشی و خرمی واپس آجا۔اور ہر قسم کی خوشیوں سے دوچار ہو جا اور میرے بندوں کو آمل اور میرے بہشت میں داخل ہو جا! اس وقت حضرت اقدس کے پاس جو خوش قسمت اصحاب موجود تھے۔ان میں سے آپ کی دونوں جہانوں میں رفیقہ حیات حضرت اُم المومنین سیدہ نصرت جہاں بیگم اور آپ کے لختِ جگر حضرت مرزا محمود احمد اور حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس وقت جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روح اپنے مولیٰ کے پاس جان کے لئے اس دنیا کی زندگی کو خیر باد کہنے کے لئے آخری کشمکش میں تھی۔اور حضرت اُم المومنین کو یہ یقین ہو گیا۔کہ اب آپ اس جہان کو الوداع کہہ رہے ہیں اس وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے جو الفاظ کہے یا بلفظ دیگر دعا کی، وہ حاضرین کے الفاظ میں یہ تھے کہ خدایا اب یہ تو ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔لیکن تو ہمیں نہ چھوڑ یو“۔حضرت اُم المومنین علیہا السلام کی یہ دعا ایک ایسی دعا ہے۔جس کا انکار نہ مبائعین کر سکتے ہیں اور