سیرت حضرت اماں جان — Page 123
123 مادر مہرباں حضرت سیدہ النساء اماں جان تا ثرات حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ قادیان دارالامان ) میں ۱۹۰۳ء یا ۱۹۰۴ء میں بچپن میں اپنے گاؤں فیض اللہ چک سے قادیان آیا۔مجھے میرے ماموں حضرت حافظ حامد علی صاحب رضی اللہ عنہ ساتھ لائے تھے۔اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کیا تھا میرے والد صاحب کو جو گول کمرہ میں ہی فوت ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُم المومنین علیہ السلام بخوبی جانتے تھے۔حضور علیہ السلام نے میرے پیش ہونے پر میرے سر پر ہاتھ رکھا اور میرے لئے وظیفہ کی سفارش فرمائی۔اس وقت تین روپیہ ماہوار سے زیادہ کسی شخص کا بھی وظیفہ نہ تھا لیکن حضرت اقدس علیہ السلام کی شفقت خاص سے اس عاجز کا وظیفہ پانچ روپیہ ماہوار مقرر ہوا۔متعلق میری ممانی (حضرت حافظ حامد علی صاحب کی اہلیہ ) حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی خدمت میں رہتیں۔اور ان کا وہیں کھانا پینا اور رہائش تھی۔میں بھی ابتداء میں ان کی وجہ سے اکثر وہیں رہتا تھا۔میں نے حضرت اماں جان کا سلوک و احسان جو اپنے دیکھا۔اور جو دوسروں کے متعلق مشاہدہ کیا۔وہ ایک نہ بھولنے والی داستان ہے۔جس کی یاد میرے ذہن اور قلب پر منقوش ہے۔اور جس کی وجہ سے ہر وقت میرے دل کی گہرائیوں سے آپ کے لئے اور آپ کی سب اولاد کے لئے دعائیں نکلتی رہتی ہیں۔جب بھی حضرت اماں جان اپنے کسی صاحبزادہ یا صاحبزادی کو کوئی مٹھائی یا کھانے پینے کی کوئی چیز دیتیں تو اس خادم غلام زادے کو بھی کبھی فراموش نہ کرتیں۔گو میں بورڈنگ میں رہتا تھا لیکن کثرت سے اور بار بار ” الدار میں آنے اور رہنے کی سعادت ملتی رہتی تھی۔اور بہت ہی کثرت سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے تبرک کھانے کا بھی موقعہ ملتا تھا۔میری والدہ جس نے مجھے جنا اس کا دودھ شاید میں نے پیا ہوگا۔لیکن اس سے زیادہ اس کی پرورش کا مجھے علم نہیں۔حضرت اماں جان ہی تھیں جنہوں نے مجھے جب میں اپنی ممانی کے ساتھ