سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 124 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 124

124 الدار میں بود و باش رکھتا تھا۔میری پرورش اور ہر طرح خبر گیری کی۔یہ احسانات حضرت اماں جان کے صرف مجھ پر ہی نہ تھے بلکہ مجھ جیسے بیسیوں غلاموں کی زندگی کا ہر ہر لمحہ حضرت ممدوحہ کے احسانات کا رہین تھا۔میری آنکھیں اشکبار ہیں۔اور دل درد سے بھرا ہوا ہے لیکن سوائے خدائے ذوالجلال کے حضور اماں جان اور حضرت ممدوحہ کی اولا د ولواحقین کے لئے دعا اور التجا کے اور کچھ نہیں کرسکتا۔میرے دل و دماغ میں اس زمانہ کی پر سرور یاد ابھی تک تازہ ہے۔جب حضرت اماں جان کے صحن میں ہاں اسی صحن میں جہاں حضرت اماں جان اپنے ارضی جسم کے ساتھ دوبارہ نہ آئیں گی میں اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور کبھی صاحبزادگان میں سے کوئی کبڈی کھیلا یا کشتی کیا کرتے تھے۔اور میری ممانی اس شور و شغب کی وجہ سے مجھے کبھی ڈانٹ بھی دیا کرتیں۔لیکن حضرت اماں جان ہماری بچپن کی اٹھکیلیوں پر باز پرس نہ فرماتیں۔مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے۔جب ہمارے آقا اور خدا تعالیٰ کے پیارے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع حضرت ام المومنین علیہا السلام کے باغ میں تشریف لے جاتے ہم بچے بھی ساتھ ہوتے۔دونوں آقاؤں کے سامنے ہم درختوں سے شہوت اور لوکاٹ وغیرہ کے پھل توڑتے اور کھاتے لیکن ہمارے یہ حسن و مہربان اس پر کبھی گرفت نہ کرتے۔بلکہ ہماری خوشی سے حقیقی خوشی اور راحت محسوس کرتے اور ہم حقیقت میں یہی سمجھتے کہ یہ باغ اور اس کے پھل ہماری ہی ملکیت ہیں۔حضرت اماں جان کی شفقت اور احسان کا سلوک صرف میرے بچپن تک ہی محدود نہ رہا۔بلکہ جب میں شادی کے قابل ہوا تو میری شادی کے جملہ انتظامات بھی حضرت اماں جان اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمائے۔اور میرے آرام و سہولت کا ہر طرح خیال فرماتے رہے۔جو ناز اور اعتماد کسی چہیتے بیٹے کو اپنے حقیقی والدین پر ہو سکتا ہے۔اس سے بڑھ کر ہمیں حضرت اماں جان پر تھا۔ایک دفعہ کسی تقریب پر حضرت اماں جان نے میری بیوی یا اس کی بہن کو نہ بلایا۔جس پر وہ روٹھ گئی تو حضرت اماں جان نے از راہ شفقت خاص طور پر ان کو بلوایا اور دلداری کی۔میں اس بات کو تحدیث بالنعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ بسا اوقات کئی ایک کام جو حضرت اماں جان اپنے دوسرے خدام سے زیادہ عمدگی سے کروا سکتی تھیں اس خادم اور غلام کے سپر دفرماتیں۔حالانکہ مجھ سے زیادہ اہل موجود ہوتے۔اس کی وجہ