سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 270 of 315

سیرت طیبہ — Page 270

۲۷۰ ہوئے۔وَكُلُّ مَن عَلَيْهَا فَان ويبلى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔مگر اس واقعہ کے تعلق میں ایک بہت عجیب بلکہ بے حد عجیب وغریب اور نہایت درجہ لطیف خدائی کرشمہ یہ ظاہر ہوا کہ جب چالیس سال کے بعد حضرت میر صاحب کی اجل مسمی کا وقت آگیا اور خدائی حکم کے ماتحت آسمان کے فرشتوں نے ان کا نام پکارا تو اس وقت یہ عاجزان کے پاس ہی کھڑا تھا اور وہ قریباً نیم بیہوشی کی حالت میں بستر میں پڑے تھے اور حافظ محمد رمضان صاحب مسنون طریق پر ان کے قریب بیٹھے ہوئے سورہ یس سنارہے تھے تو عین اس وقت جبکہ حافظ صاحب قرآنِ مجید کی اس آیت پر پہنچے جو حضرت میر صاحب کے بچپن کے زمانہ میں ان کے متعلق حضرت مسیح موعود کو الہام ہوئی تھی یعنی سَلَام قَوْلًا مِّنْ رَّبٍ رَّحِيمٍ تو حضرت میر صاحب نے آخری سانس لیا اور خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔گو یا بچپن میں اس خدائی رحمت کے پیغام نے ان کے لئے دنیا کی زندگی کا دروازہ کھولا اور چالیس سال بعد بڑھاپے میں انہی قرآنی الفاظ میں خدا کے فرشتوں نے انہیں اُخروی زندگی کے دروازے پر کھڑے ہوکر آواز دی۔بچپن کی بیماری میں حضرت مسیح موعود کے اس الہام نے ان کے لئے جسمانی صحت کا پیغام دیا اور زندگی کی آخری بیماری میں فرشتوں نے انہیں انہی الفاظ میں جنت کے دروازے پر کھڑے ہو کر اھلا و سھلا کہا۔یقینایہ کوئی اتفاقی بات نہیں بلکہ خدائی قدرت ورحمت کا عجیب و غریب کرشمہ ہے جو خدا نے اپنے اس نیک اور مجاہد بندے کے لئے ظاہر فرمایا کہ شروع میں انہی الفاظ میں اُسے بیماری کی حالت میں دنیوی زندگی کی بشارت دی اور پھر چالیس سال بعد انہی