سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 271 of 315

سیرت طیبہ — Page 271

۲۷۱ الفاظ کے ذریعہ اس کے لئے اُخروی نعمتوں کا دروازہ کھول دیا۔دوست غور کریں کہ ہمارے علیم وخبیر خدا کا علم کتنا وسیع اور اس کی قدرت کتنی عجیب و غریب ہے کہ بجلی کے بٹن کی طرح ایک ہی سوچ ایک وقت میں دنیا کی نعمتوں کا نظارہ دکھاتی ہے اور دوسرے وقت میں وہی سوچ پردہ اٹھا کر جنت الفردوس کا نظارہ پیش کر دیتی ہے۔اور یہ دونوں نظارے حضرت میر صاحب کے لئے خدا کی غیر معمولی رحمت اور حضرت مسیح موعود کی غیر معمولی جمالی شان سے معمور ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِك وَسَلِّم - (۱۴) اب میں ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے رشتہ داروں بلکہ مخالف رشتہ داروں تک کے ساتھ رحیمانہ اور مشفقانہ سلوک تھا۔دراصل چھوٹے چھوٹے گھر یلو واقعات ہی زیادہ تر انسان کے اخلاق کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے بہترین معیار ہوتے ہیں۔کیونکہ اُن میں کسی قسم کے تکلف کا پہلو نہیں ہوتا اور انسان کی اصل فطرت بالکل عریاں ہو کر سامنے آجاتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے ساتھ اپنے نئے بنے ہوئے حجرے میں اکٹھے کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ اُس وقت میں بھی اپنی بچپن کی عمر میں کسی لڑکے کے ساتھ کھیلتا ہوا اُس حجرے میں پہنچ