سیرت طیبہ — Page 269
۲۶۹ جماعت کے اکثر دوست ہمارے چھوٹے ماموں حضرت میر محمد الحق صاحب کو جانتے ہیں۔انہوں نے حضرت خلیفہ اول مولوی نورالدین صاحب سے اور بعض دوسرے احمدی علماء سے علم حاصل کیا اور پھر اپنی فطری ذہانت اور مشق اور ذوق وشوق کے نتیجہ میں جماعت کے چوٹی کے علماء میں داخل ہو گئے۔ان کا درس قرآنِ مجید اور درسِ حدیث سننے سے تعلق رکھتا تھا اور مناظرے کے فن میں تو انہیں ایسا یدطولیٰ حاصل تھا کہ بڑے بڑے جبہ پوش مولوی اور عیسائی پادری اور آریہ پنڈت ان کے سامنے بحث کے وقت طفلِ مکتب نظر آتے تھے۔انہی میر محمد اسحق صاحب کے بچپن کا ایک واقعہ ہے کہ ایک دفعہ وہ سخت بیمار ہو گئے اور حالت بہت تشویشناک ہو گئی اور ڈاکٹروں نے مایوسی کا اظہار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق دعا فرمائی تو عین دعا کرتے ہوئے خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍ رَّحِيمٍ ( بدرا ارمنی و الحکم ۱۷ رمئی ۱۹۰۵ء) یعنی تیری دعا قبول ہوئی اور خدائے رحیم و کریم اس بچے کے متعلق تجھے سلامتی کی بشارت دیتا ہے“ رض چنانچہ اس کے جلد بعد حضرت میر محمد اسحق صاحب بالکل توقع کے خلاف صحتیاب ہو گئے اور خدا نے اپنے مسیح کے دم سے انہیں شفا عطا فرمائی اور اس کے بعد وہ چالیس سال مزید زندہ رہ کر اور اسلام اور احمدیت کی شاندار خدمات بجالا کر اور ملک و ملت میں بہت سی نیکیوں کا بیج بو کر قریباً پچپن سال کی عمر میں خدا کو پیارے