سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 200 of 315

سیرت طیبہ — Page 200

بیدار ہو کر سر اٹھا ئیں گے اور مسلمانوں کو کچلنے کے لئے ہر بلندی سے بھاگے آئیں گے اور آج وہ بھاگے آرہے ہیں۔یہ سب کچھ اور ان کے ساتھ بیشمار دوسری باتیں پوری ہوئیں اور اس طرح مسلمانوں کے تنزل میں بھی اسلام کی صداقت کا سورج چمکا کیونکہ یہ تنزل بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے عین مطابق ہے۔مگر ہمارا آقا کوئی بے وفا آقا نہیں تھا جو اپنے گرتے ہوئے خادموں کا ہاتھ چھوڑ کر الگ ہو جاتا۔اس نے جہاں مسلمانوں کے تنزل کی پیشگوئی فرمائی تھی وہاں اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا تھا کہ جب آخری زمانہ میں مسلمانوں پر غیر معمولی تنزل آئے گا تو خدا تعالیٰ میری امت میں سے ایک مثیل مسیح اور مہدی پیدا کرے گا جو گرتے ہوئے مذہب کو سنبھال کر اور گرتی ہوئی قوم کو سہارا دے کر انہیں پھر او پر اٹھالے گا اور اس کے ذریعہ اسلام نہ صرف خطرہ سے بچ جائے گا بلکہ بالآخر دنیا میں ایک انقلابی صورت پیدا ہوگی اور مغرب کے مادہ پرست لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا دم بھر نے لگیں گے۔اس وقت یوں نظر آئے گا کہ گویا مشرق سے طلوع کرنے والا سورج مغرب سے چڑھ رہا ہے (بخاری کتاب الفتن ) پس اے تاریکی کو دیکھنے والے لوگو! گھبراؤ نہیں۔بلکہ خوش ہوا ور خوشی سے اچھلو کہ اب اس کے بعد روشنی آنے والی ہے۔مغرب کے عیسائی ممالک کے اس غیر معمولی انقلاب کی بہترین تصویر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک کشف میں بیان ہوئی ہے جہاں خدا تعالیٰ نے اس انقلاب کا ایک روشن فوٹو کھینچ کر رکھ دیا ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں میں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحر ذخار کی طرح دریا ہے جو سانپ کی