سیرت طیبہ — Page 199
۱۹۹ ہی نوازا جائے اور پرانے زمانے کی ظاہری چمک دمک والی باتوں سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے۔حتی کہ حضرت سرور کائنات فخر رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں بھی حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضاء والے معجزات کی بجائے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور قرآن کے عجیب وغریب روحانی اور اخلاقی محاسن والا معجزہ پیش کیا اور یا ان عظیم الشان پیشگوئیوں پر اپنے افضل الرسل کی صداقت کی بنیاد رکھی جو آج سے تیرہ سو سال قبل سے شروع ہو کر آج تک پوری ہو ہو کر اسلام کی سچائی پر مہر لگاتی چلی آئی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریش مغلوب ہوں گے اور مکہ فتح ہوگا اور مکہ فتح ہو کر رہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارے عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہوگی اور اسلام کی حکومت قائم ہو کر رہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ماننے والوں کے ہاتھوں سے کسریٰ اور قیصر کی حکومتیں خاک میں ملیں گی اور وہ خاک میں مل کر رہیں اور ان کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کی روحانی تاثیرات سے میرے پیر و علم و معرفت میں آسمان کے ستارے بنیں گے اور وہ ستاروں سے بھی آگے پہنچے۔اور دنیا کے لئے چاند اور سورج کا مرتبہ پایا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بوئے ہوئے بیچ سے سینکڑوں سال تک اولیاء اور صلحاء کی ایک ایسی جماعت پیدا ہوتی گئی جس نے آسمانِ ہدایت میں گویا کہکشاں کا سا سماں باندھ دیا اور بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی فرمایا کہ ایک لمبے زمانہ کے بعد میری امت میں تنزل کے آثار پیدا ہوں گے اور یاجوج ماجوج اور غاروں میں چھپے ہوئے صلیبی علم بردار اپنی نیند سے