سیرت طیبہ — Page 201
طرح بل پیچ کھاتا مغرب سے مشرق کو جا رہا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے۔بدل کر مشرق سے مغرب کو الٹا بہنے لگا۔“ تذکره ص ۴۸۲۔مطابق الحکم ۲۷ اپریل ۱۹۰۳ء) مغربی استبداد کی موجودہ حالت کی کوئی تصویر اس سے بہتر نہیں کھینچی جاسکتی اور پھر لطف یہ ہے کہ جہاں اس بحر ذخار کے متعلق مغرب سے مشرق کی طرف بہنے کا ذکر ہے وہاں اسے سانپ سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایک ڈسنے والا مہلک جانور ہے۔لیکن جہاں اس کے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کی طرف بہنے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں اس تشبیہ کو ترک کر کے اسے صرف ایک پانی کے دھارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔یہ وہ لطیف اشارے ہیں جن سے خدا کا کلام ہمیشہ معمور ہوا کرتا ہے۔اور بخدا میں اس پھوار کی ٹھنڈک ابھی سے عالم تخیل میں محسوس کر رہا ہوں جو آگے چل کر ہماری آئندہ نسلوں کو ہمارے ہونے والے مغربی بھائیوں کے پاک انفاس کی طرف سے پہنچنے والی ہے۔بہر حال یہ خدا کا دکھایا ہوا نظارہ ہے جو ضرور ایک دن پورا ہوگا۔حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں :- قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث میں بھی آخری زمانے کے اس عظیم الشان انقلاب کی بڑی خوشکن تصویر کھینچی ہے جو کمزور دلوں کو ڈھارس دینے اور