سیرت طیبہ — Page 8
عبادت میں اتنا منہمک رہتا ہے کہ اس کا زیادہ وقت مسجد میں ہی گذرتا ہے اور اگر وہ کسی کام وغیرہ کی غرض سے مسجد سے باہر آتا ہے تو اس وقت بھی وہ گو یا اپنا دل مسجد میں ہی چھوڑ آتا ہے کہ کب یہ کام ختم ہو اور کب میں اپنے نشیمن میں واپس پہنچو۔ہونے والے ماموروں کی یہ بات ایسے حالات سے تعلق رکھتی ہے کہ جب وہ اپنے دعویٰ سے قبل ریاضات اور عبادات میں مشغول ہوتے ہیں ورنہ دعوئی کے بعد تو ان کی زندگی مجسم جہاد کا رنگ اختیار کر لیتی ہے جس کا ہر لمحہ باطل کا مقابلہ کرنے اور ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچانے میں گزرتا ہے۔(۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں خدا کی محبت اتنی رچی ہوئی اور اتنا غلبہ پائے ہوئے تھی کہ اس کے مقابل پر ہر دوسری محبت پیچ تھی اور آپ اس ارشاد نبوی کا کامل نمونہ تھے کہ :۔الْحُبُّ فِي اللهِ وَ الْبُغْضُ فِي اللهِ “۔(ابو داؤد كتاب السنة باب مجانبة اهل الاهواء وبغضهم) یعنی سچے مومن کی ہر محبت اور ہر ناراضگی خدا کی محبت اور خدا کی ناراضگی کے تابع اور اسی کے واسطے سے ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے ایک فارسی نظم میں خدا کی حقیقی محبت کا پیمانہ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ :۔