سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 7 of 315

سیرت طیبہ — Page 7

کی طرف سے نوکری کا پیغام لا کر دیا تھا کہ ایک دفعہ ایک بڑے افسر یا رئیس نے ہمارے دادا صاحب سے پوچھا کہ سنتا ہوں کہ آپ کا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے مگر ہم نے اسے کبھی دیکھا نہیں۔دادا صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ہاں میرا ایک چھوٹا لڑکا تو ہے مگر وہ تازہ شادی شدہ دلہنوں کی طرح کم ہی نظر آتا ہے اگر اسے دیکھنا ہو تو مسجد کے کسی گوشہ میں جا کر دیکھ لیں وہ تو مسیتڑ ہے اے۔اور اکثر مسجد میں ہی رہتا ہے اور دنیا کے کاموں میں اسے کوئی دلچسپی نہیں۔ہماری تائی صاحبہ کبھی کبھی بعد میں حضرت مسیح موعود کی خدا داد ترقی کو دیکھ کر اس روایت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتی تھیں کہ میرے تایا ( یعنی ہمارے دادا صاحب) کو کیا علم تھا کہ کسی دن غلام احمد کی ( سيرة المهدی جلد اول حصہ دوم صفحہ ۳۶۷) خاکسار جب بھی یہ روایت سنتا ہے تو مجھے لازما رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش بختی کیا پھل لائے گی۔وہ حدیث یاد آ جاتی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ :۔الَيْهِ رَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ یعنی وہ شخص خدا کے خاص فضل و رحمت کے سایہ میں ہے جس کا دل ہر وقت مسجد میں لٹکا رہتا ہے۔(ترمذی ابواب الزهد باب ما جاء في الحب في الله ) مسجد میں دل کے لٹکے رہنے سے یہ مراد ہے کہ ایسا شخص خدا کی محبت اور اس کی مسیتر پنجابی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں جس کا اکثر وقت مسجد میں بیٹھ کر نماز اور ذکر الہی میں گذرتا ہے