سیرت طیبہ — Page 263
۲۶۳ ہے کہ اب پیشگوئی کے دوسرے حصہ کے پورا ہونے کا وقت آ رہا ہے۔اس کے لئے گریہ وزاری سے دعائیں کرو اور خدا کی طرف سے نزول رحمت کے طالب بنو۔چنانچہ قادیان کی واپسی کے متعلق حضرت مسیح موعود کا ایک واضح الہام یہ ہے کہ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ اتِيكَ بَغْتَةً - (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ ٹائٹل پیج ) یعنی زمین و آسمان کا مالک خدا جس نے تجھ پر قرآن کی تبلیغ فرض کی ہے وہ تجھے ضرور ضرور ایک دن تیرے وطن ( قادیان ) کی طرف واپس لے جائے گا۔اور میں تیری مدد کے لئے اپنی فوجوں کے ساتھ اچانک پہنچوں گا۔“ یہ خدائے عرش کی وہ تقدیر ہے جو ہجرت والی پیشگوئی کی دوسری شاخ کے طور پر حضرت مسیح موعود کے قلب صافی پر نازل کی گئی اور انشاء اللہ وہ ضرور اپنے وقت پر پوری ہو کر رہے گی۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ وقت کب آئے گا یہ غیب کی باتیں ہیں جو خدا کے ازلی علم کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔مگر ہم یہ بات قطعی طور پر جانتے ہیں اور ہماری نسلوں کو یہ بات اپنے پاس لکھ رکھنی چاہیے کہ قادیان جو خدا کے ایک مقدس رسول کا تخت گاہ ہے وہ انشاء اللہ ضرور ضرور ہمیں جس رنگ میں بھی خدا کو منظور ہوا ایک دن واپس ملے گا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا کی یہ تقدیر ایک ایسی پتھر کی لکیر ہے جو کبھی نہیں مٹ سکتی۔ہم کسی حکومت کے بدخواہ نہیں اور ہمیں خدا کا اور اس کے