سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 262 of 315

سیرت طیبہ — Page 262

۲۶۲ اس الہام کی بناء پر نیز انبیاء کی عمومی سنت کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمیشہ یہ خیال رہتا تھا اور حضور کبھی کبھی ذکر بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں یا ہمارے بعد ہماری جماعت کو ایک دن قادیان سے ہجرت کرنی پڑے گی۔چنانچه ۱۹۴۷ء میں آکر حضور کا یہ الہام غیر معمولی حالات میں پورا ہوا اور وہ یہ کہ باوجود اس کے کہ ضلع گورداسپور کی آبادی میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور ملکی تقسیم کے متعلق سمجھوتہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے پاکستان کے حصہ میں ڈالے جائیں گے فیصلہ کرنے والے افسروں نے قادیان کا علاقہ ہندوستان کے حصہ میں ڈال دیا اور جماعت کے خلیفہ اور جماعت کے کثیر حصہ کو کئی قسم کی تکلیفیں برداشت کر کے اور نقصان اٹھا کر اور قربانیاں دے کر پاکستان کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔اور اس طرح ظاہری حالات اور توقعات کے بالکل خلاف حضرت مسیح موعود کا داغ ہجرت والا الہام اپنی انتہائی تلخی کے ساتھ پورا ہوا اور اس پیشگوئی کی پہلی شاخ جو ہجرت سے تعلق رکھتی تھی حضرت مسیح موعود کی صداقت کا ایک زبردست نشان بن گئی۔قادیان جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مولد ومسکن تھا اور وہیں حضرت مسیح موعود نے اپنی زندگی کے دن گزارے اور وہیں خدائے واحد کی عبادتیں کیں اور وہیں اپنی دعاؤں سے زمین و آسمان کو ہلایا اور وہیں حضور کا جسدِ مبارک اپنے بے شمار فدائیوں کے ساتھ اس دنیا کی آخری نیند سورہا ہے وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔خدا کی یہ تقدیر بہر حال ایک بڑی تلخ تقدیر ہے اور جماعت کے لئے ایک زبردست امتحان بھی ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ تقدیر آسمان سے یہ الارم بھی مسلسل دے رہی