سیرت طیبہ — Page 252
۲۵۲ خدائی پیشگوئی کے مطابق حضرت عیسی نے جمالی شان کے ساتھ فروتنی کے لباس میں ظہور کیا اسی طرح ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) جلالی شان کا جبہ زیب تن کئے ہوئے جاہ و حشمت کے ساتھ منظر عالم پر آئے اور آپ کے چودہ سو سال بعد آپ کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے شاگرد اور خادم حضرت مسیح محمدی نے اپنے سفید جھنڈے کے ساتھ جمالی شان میں آسمانِ ہدایت سے نزول کیا۔و تمت كَلِمَةُ رَبَّكَ صِدْقًا وَ عَدُلًا - (<) جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمالی مصلح تھے جو اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں مبعوث کئے گئے جس طرح کہ اسرائیلی سلسلہ میں حضرت موسیٰ کے بعد حضرت عیسی جمالی رنگ میں ظاہر ہوئے۔یہ درست ہے کہ جب کسی روحانی مصلح کو جمالی یا جلالی کہا جاتا ہے تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ اس کی ہر بات جمالی یا جلالی شان رکھتی ہے بلکہ اس کی طبیعت اور اس کے طریق کار کے غالب رجحان کی وجہ سے اسے جمالی یا جلالی کا نام دیا جاتا ہے ورنہ حق یہ ہے کہ ظل اللہ یعنی خدا کے نائب ہونے کی حیثیت میں ہر روحانی مصلح میں ایک حد تک جلالی اور جمالی دونوں شانیں پائی جاتی ہیں۔مگر جس مصلح میں خدائی مشیت اور زمانہ کے تقاضے کے ماتحت جلالی شان کا غلبہ ہوا سے اصطلاحی طور پر جلالی