سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 253 of 315

سیرت طیبہ — Page 253

۲۵۳ مصلح قرار دیا جاتا ہے اور ایسے مصلح عموماًانئی شریعت کے قیام یا کسی زبر دست نئی تنظیم کے استحکام کے لئے آتے ہیں۔دوسری طرف جس روحانی مصلح میں جمالی شان کا غلبہ ہوتا ہے اسے جمالی مصلح کا نام دیا جاتا ہے۔گوجیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ظل اللہ یا کامل عبد ہونے کی وجہ سے اس میں بھی کبھی کبھی جلالی شان کی جھلک پیدا ہو جاتی ہے مگر اس کے مقام کا مرکزی نقطہ بہر حال جمالی رہتا ہے۔جلالی اور جمالی شانوں کا یہ لطیف دور ایک حد تک خلفاء کے سلسلہ میں بھی چلتا ہے چنانچہ حضرت ابوبکر جمالی شان رکھتے تھے مگر حضرت عمر جلالی شان کے ساتھ ظاہر ہوئے۔اسی طرح سلسلہ احمدیہ کے پہلے خلیفہ حضرت مولوی نور الدین صاحب جمالی خلیفہ تھے مگر جیسا کہ مصلح موعود والی پیشگوئی میں مذکور ہے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ”جلالِ الہی کے ظہور کا موجب قرار دیئے گئے۔جلال اور جمال کے اس دور میں بڑی گہری حکمتیں ہیں جن کے بیان کرنے کی اس جگہ ضرورت نہیں۔بہر حال چونکہ حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمد یہ مسیح ناصری کی طرح جمالی شان کے مصلح تھے اس لئے آپ کے تمام کاموں میں جمالی شان کا غلبہ نظر آتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شفقت و محبت اور پند ونصیحت اور عفو و کرم کے اس پیکر نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے احمد نام کی ظلیت میں جنم لے لیا ہے۔حضرت مسیح موعود نے دنیا میں شادی بھی کی اور خدا نے آپ کو اولاد سے بھی نوازا اور آپ کو مخلص دوست بھی عطا کئے گئے اور دشمنی کرنے والوں نے بھی اپنی دشمنی کو انتہا تک پہنچادیا اور ہر رنگ میں آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور آپ کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی