سیرت طیبہ — Page 120
قریب قادیان میں طاعون کی وبا پھوٹی اور حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر پیشگوئی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مجھے طاعون سے محفوظ رکھے گا اور اسی طرح میرے گھر کے اندر رہنے والے لوگ بھی طاعون سے محفوظ رہیں گے۔چنانچہ اس بارے میں خدائی وحی کے الفاظ یہ تھے کہ إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ “ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۰) د یعنی میں جو زمین و آسمان کا خدا ہوں تیری اور تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر رہنے والے تمام لوگوں کی طاعون سے حفاظت کروں گا۔“ مگر خدا برا کرے تعصب کا کہ وہ انسان کی آنکھوں پر عداوت کی پٹی باندھ کر اسے اندھا کر دیتا ہے چنانچہ جب اخبار شجھ چنتک کے ایڈیٹر اور منیجر وغیرہ نے یہ پیشگوئی سنی تو غرور میں آکر اور جوش عداوت میں اندھے ہو کر اچھر چند منیجر اخبار شجھ چنتک نے کہا یہ بھی کوئی پیشگوئی ہے میں کہتا ہوں کہ میں بھی طاعون سے محفوظ رہوں گا۔اس کے چند دن بعد ہی قادیان میں طاعون نے زور پکڑا اور اخبار شبھ چنتک کے سارے رکن اس موذی مرض میں مبتلا ہو گئے۔اور جب ان میں سے اچھر چند جس نے یہ بڑا بول بولا تھا اور اس کا ساتھی بھگت رام مر گئے اور سومراج ایڈیٹر شبھ چنتک ابھی بیمار پڑا تھا تو اس نے گھبرا کر قادیان کے ایک قابل احمدی حکیم مولوی عبید اللہ صاحب بسمل مرحوم کو کہلا بھیجا کہ میں بیمار ہوں آپ مہربانی فرما کر میرا علاج کریں۔مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں ایک عریضہ لکھ کر پوچھا کہ سومراج ایڈیٹر شبھ چنتک طاعون سے بیمار ہے اور اس نے مجھ سے علاج کرنے کی