سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 121 of 315

سیرت طیبہ — Page 121

۱۲۱ درخواست کی ہے حضور کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے؟ حضرت مسیح موعود نے جواب میں فرمایا۔آپ علاج ضرور کریں کیونکہ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے مگر میں آپ 66 کو بتادیتا ہوں کہ یہ شخص بچے گا نہیں۔“ چنانچہ بسمل صاحب کے ہمدردانہ علاج کے باوجودسومراج اسی شام کو یا اگلے دن مرکز اپنے بدنصیب ساتھیوں سے جاملا۔الحکم ۱۰ اپریل ۱۹۰۷ بشمول روایت مرزا اسلام اللہ بیگ صاحب) اس عجیب و غریب واقعہ میں دو عظیم الشان سبق ہیں۔ایک سبق حضرت مسیح موعود کی غیر معمولی انسانی ہمدردی کا ہے کہ اپنے اشد ترین مخالف اور بدترین دشمن کے علاج کے لئے اپنے ایک مرید کو ہدایت فرمائی اور دوسرا سبق خدائی غیرت کا ہے کہ ادھر ان لوگوں نے حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی پر ہنسی اڑائی بلکہ ان میں سے ایک نے آپ کے مقابل پر از راہ افتراء پیشگوئی کا بھی اعلان کیا اور ادھر خدا نے فوراً ان سب کو طاعون میں مبتلا کر کے ایک دو دن میں ہی ان کا خاتمہ کر دیا اور خدا کا یہ شاندار وعدہ بڑے آب و تاب کے ساتھ پورا ہوا کہ كتب الله لا غُلِبَنَّ انَا وَرُسُلِي (المجادلة: ۲۲) یعنی خدا نے یہ بات مقدر کر رکھی ہے کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ اپنے مخالفوں کے مقابل پر غالب آئیں گے۔“