سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 298 of 315

سیرت طیبہ — Page 298

۲۹۸ یہ پانچ مثالیں میں نے محض بطور نمونہ حضرت مسیح موعود کے صحابیوں کے مختلف طبقات میں سے منتخب کی ہیں ورنہ آپ کے صحابہ خدا کے فضل سے آپ کی محبت اور عقیدت اور اخلاص اور قربانی اور نیکی میں حقیقتہ اس زمانہ میں دنیا کے لئے ایک پاک اسوہ اور حضرت مسیح موعود کی صداقت کی زبردست دلیل تھے۔حضرت مسیح ناصری کا یہ قول کتنا سچا اور کتنی گہری حقیقت پر مبنی ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے مگر افسوس ہے کہ حضرت مسیح ناصری کو اپنی فلسطینی زندگی میں اپنے درخت کے شیریں پھل دیکھنے نصیب نہ ہوئے اور مسیح کے آخری ابتلاء میں جو صلیب کی شکل میں رونما ہوا مسیح کے حواریوں نے بڑی کمزوری اور بے وفائی دکھلائی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول کی برکت سے مسیح محمدی کو بڑی کثرت کے ساتھ نہایت شیریں پھل عطا کئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ اس خاص فضل الہی کا ذکر کرتے ہوئے بڑے شکر و امتنان کے ساتھ فرماتے ہیں کہ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں جو سچے دل سے میرے پر ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت ایسے روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروان سے جو ان کی زندگی میں اُن پر ایمان لائے تھے ہزار درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہروں پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا