سیرت طیبہ — Page 299
۲۹۹ نور پاتا ہوں۔۔۔میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ہزارہا آدمی دل سے فدا ہیں۔اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردار ہو جاؤ تو وہ دستبردار ہونے کے لئے مستعد ہیں۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سنا تا مگر دل میں خوش ہوں۔“ (الذکر احکیم نمبر ۴ ص ۱۶، ۱۷) سچ ہے اور پھر سچ ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے خدا کرے کہ حضرت مسیح موعود کے ہاتھ کا لگایا ہوا خدائی پودا قیامت تک اسی قسم کے شیریں پھل پیدا کرتا چلا جائے اور ہماری نسلیں اور پھر نسلوں کی نسلیں اس مقدس ورثہ کی قدر و قیمت کو پہچانیں جو حضرت مسیح موعود کے صحابہ کے ذریعہ جماعت کو حاصل ہوا ہے۔(۲۲) مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا جس میں ایک طرف مخلصین جماعت کی محبت اور عقیدت اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود کے حسنِ تادیب و تربیت کی بڑی دلچسپ مثال ملتی ہے۔جیسا کہ اکثر دوست جانتے ہیں دنیا کے لوگوں میں کسی عوامی لیڈر کے ساتھ اپنی دلچسپی اور عقیدت کے اظہار کا ایک معروف طریق یہ بھی ہے کہ بعض اوقات جب کوئی ہر دلعزیز لیڈر کسی شہر میں جاتا ہے تو اس شہر کے لوگ اس کی گاڑی میں