سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 297 of 315

سیرت طیبہ — Page 297

۲۹۷ نے خیال کیا کہ اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو خدا کو اس بات کا کیا جواب دوں گا کہ اُس کے میسیج کی آواز میرے کانوں میں پہنچی اور میں نے اس پر عمل نہ کیا۔(سیرت المہدی روایت نمبر ۷۴۱ حصہ سوم صفحہ ۶۷۳) پھر ایک منشی عبدالعزیز صاحب دیہاتی پٹواری تھے یہ بھی پرانے صحابیوں میں سے تھے اور بڑے نیک اور قربانی کرنے والے خدمت گزار انسان تھے انہوں نے مجھ سے خود بیان کیا کہ ایک دفعہ جب ایک مقدمہ کے تعلق میں حضرت مسیح موعود گورداسپور تشریف لے گئے تو اُس وقت حضور بیمار تھے اور حضور کو پیچش کی سخت تکلیف تھی اور حضور بار بار قضائے حاجت کے لئے جاتے تھے۔میں حضور کے قریب ہی ٹھہر گیا اور جب بھی حضور رفع حاجت کے لئے اٹھتے تھے میں فوراً حضور کی خدمت میں پانی کا لوٹا حاضر کر دیتا تھا۔حضور مجھے بار بار فرماتے تھے کہ میاں عبدالعزیز آپ سوجائیں اگر ضرورت ہوئی تو میں آپ کو جگالوں گامگر میں ساری رات مسلسل جاگتا رہا تا کہ ایسا نہ ہو کہ حضور مجھے کسی وقت آواز دیں اور میں نیند کی حالت میں حضور کی آواز کو نہ سن سکوں اور حضور کو تکلیف ہو۔صبح اٹھ کر حضرت مسیح موعود نے مجلس میں خوش ہو کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا فضل ہے کہ مسیح ناصری ایک شدید ابتلاء کے وقت میں لوگوں سے بار بار کہتا تھا کہ ” جاگتے رہو اور دعا کرو مگر وہ سوجاتے تھے (متی باب ۲۶ آیت ۳۹ تا ۴۶) مگر ہم ایک عام بیماری کی حالت میں منشی عبد العزیز صاحب سے بار بار کہتے تھے کہ سو جاؤ مگر وہ ہماری وجہ سے ساری رات جاگتے رہے اور آنکھ تک نہیں جھپکی۔(سیرت المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۷۰۱ صفحه ۶۳۹)