سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 193 of 315

سیرت طیبہ — Page 193

۱۹۳ کے مسیح کا یہ حال ہے تو پھر ہم عاجز بندوں کو اپنے کاموں میں کتنی دعاؤں اور کتنے خدائی سہاروں کی ضرورت ہے!! کاش ہم دعا کی قدر و قیمت کو پہچانیں اور اسے اپنی زندگیوں کا لازمہ بنائیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی روحانی زندگی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ لطیف مضمون ”اسلامی اصول کی فلاسفی“ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے بلکہ انگریزی زبان کے علاوہ بعض دوسری زبانوں میں بھی اس کا ترجمہ ہو کر یورپ اور امریکہ اور دنیا کے کئی دوسرے ملکوں میں پہنچ چکا ہے اور جہاں جہاں بھی یہ کتاب پہنچی ہے نیک فطرت علم دوست طبقے نے اس کے مضامین کی غیر معمولی بلندی اور گہرائی سے متاثر ہوکر اس کی انتہائی تعریف کی ہے۔( مثلاً دیکھو تبلیغ ہدایت صفحہ ۲۴۴ تا ۲۴۶)۔کاش ہماری جماعت اس بے نظیر کتاب کی اشاعت کی طرف زیادہ توجہ دے تا کہ وہ خدائی نور جو اس مضمون کی تصنیف کے وقت آسمان سے نازل ہوا تھا جلد تر دنیا میں پھیل کر اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کرنے اور قرآنی صداقت کو دنیا بھر میں پھیلانے کا رستہ کھول دے۔اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا کیونکہ خدائے عرش اپنے مقدس مسیح کو پہلے سے فرما چکا ہے کہ بخرام که وقت تو نزد یک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد “ ( تذکره ص ۱۰۲ وص ۶۳۵) سوامی شوگن چندر صاحب کے متعلق حضرت بھائی قادیانی صاحب اپنی روایت کے آخر میں بیان کرتے ہیں کہ یہ سوامی صاحب جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان نشان کے سامان پیدا کئے جلسہ کی تمام کارروائی کے دوران میں اور پھر