سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 192 of 315

سیرت طیبہ — Page 192

۱۹۲ روحانی کیفیت دلوں پر حاوی تھی۔اور اس کے پڑھنے کی گونج کے سوالوگوں کے سانس تک کی بھی آواز نہ آتی تھی حتی کہ قدرت خداوندی سے اس وقت جانور تک بھی خاموش تھے اور مضمون کے مقناطیسی اثر میں کوئی خارجی آواز رخنہ انداز نہ ہورہی تھی۔کاش! میں اس لائق ہوتا کہ جو کچھ میں نے اس وقت دیکھا اور سُنا اس کا عشر عشیر ہی بیان کر سکتا۔۔۔۔کوئی دل نہ تھا جو اس لذت و سرور کو محسوس نہ کرتا تھا۔کوئی زبان نہ تھی جو اس کی خوبی و برتری کا اقرار و اعتراف نہ کرتی تھی۔۔۔۔نہ صرف یہی بلکہ ہم نے اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کئی ہندو اور سکھ صاحبان مسلمانوں کو گلے لگا لگا کر کہہ رہے تھے کہ اگر یہی قرآن کی تعلیم اور یہی اسلام ہے جو آج مرزا صاحب نے بیان فرمایا ہے تو ہم لوگ آج نہیں تو کل اسے قبول کرنے پر مجبور ہوں گے۔“ اصحاب احمد جلد ۹ ازص ۲۵۲ تاص۲۶۱) اس مضمون کے متعلق حضرت منشی جلال الدین صاحب بلانوی مرحوم جنہوں نے جلسہ میں پڑھے جانے کے لئے اس مضمون کی صاف نقل تیار کی تھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میں نے اس مضمون کی سطر سطر پر دعا کی ہے۔“ (اصحاب احمد جلد نهم ص ۲۶۵) دوست غور کریں کہ لکھنے والا خدا کا مامور ومرسل ہے اور مضمون وہ ہے جس کے متعلق خدا کا وعدہ ہے کہ وہ سب پر غالب آئے گا مگر پھر بھی خدا کا یہ برگزیدہ مسیح قدم قدم پر اور سطر سطر پر خدا سے دعا کرتا اور اس کی نصرت کا طالب ہوتا ہے۔تو جب خدا