سیرت طیبہ — Page 163
۱۶۳ ہے اور ان کی ترقی اور غلبہ کے متعلق اپنے وعدہ کو غیر معمولی حالات میں پورا کرنے کا رستہ کھولتا ہے اور اپنی قدرت نمائی سے تمام روکوں کو دور کرتا چلا جاتا ہے وہاں دوسری طرف وہ مومنوں کی جماعت سے انتہائی قربانی کا بھی مطالبہ کرتا ہے اور گویا ایک موت کی وادی میں سے گزار کر انہیں کامیابی کا منہ دکھانا چاہتا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں احباب غور سے سنیں کہ ان الفاظ میں ان کی ترقی کی کلید ہے: ”خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ یہ انسان کی بات نہیں خدا تعالیٰ کا الہام اور رپ جلیل کا کلام ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ان حملوں کے دن نزدیک ہیں۔مگر یہ حملے تیغ و تبر سے نہیں ہوں گے اور تلواروں اور بندوقوں کی حاجت نہیں پڑے گی بلکہ روحانی اسلحہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد اترے گی۔۔۔۔۔سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اُس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اُسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لیے ساری ذلتیں قبول نہ کر لیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت