سیرت طیبہ — Page 162
۱۶۲ ہے کہ اس مُشتِ خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا۔“ تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۰۸ تا ۴۱۰) اوپر والے کشف میں جو آئندہ ہونے والے بادشاہوں کو گھوڑوں پر سوار دکھایا گیا ہے اس میں یہ لطیف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ بادشاہ یونہی نام کے بادشاہ نہیں ہوں گے بلکہ جاہ وحشمت والے صاحب اقتدار بادشاہ ہوں گے جن کے ہاتھوں میں طاقت کی باگیں ہوں گی۔بہر حال یہ سب کچھ انشاء اللہ اپنے وقت پر روحانی اسباب اور قلوب کی فتح کے ذریعہ پورا ہوگا اور ضرور ہوگا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدائے ارض وسما کی تقدیر ہرگز ٹل نہیں سکتی۔وہ ایک پتھر کی لکیر ہے جو کبھی مٹائی نہیں جاسکتی جس کی صداقت کو دنیا حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک ہزاروں لاکھوں دفعہ آزما چکی ہے۔مگر ذرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انکساری اور کسر نفسی ملاحظہ کرو کہ دنیا کے سامنے تو خدائی وعدوں پر بھروسہ کر کے یوں گر جتے ہیں کہ جیسے ایک شیر ببر اپنے شکار کے سامنے گر جتا ہے مگر جب خدا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو انتہائی عاجزی کے ساتھ اپنے آپ کو ایک نالائق مزدور اور مشت خاک کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں حق یہ ہے کہ اس دہرے تصور میں خدائی مرسلوں کی کامیابی اور ان کے غلبہ کا ابدی راز مضمر ہے (٢) مگر جہاں خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں اور ماموروں کی نصرت فرماتا