سیرت طیبہ — Page 164
۱۶۴ ہے جس پر اسلام کی زندگی ، مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے۔،، فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۹ تا ۱۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری توجہ اور ساری کوشش عمر بھر اسی بات میں صرف ہوئی کہ آپ اپنی جماعت کو اسلام کے لئے مرنا سکھا دیں۔چنانچہ آپ کی اس تعلیم کے ماتحت آپ کی جماعت میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام کی خدمت میں اس طرح زندگی بسر کی کہ گویا دنیا کے لحاظ سے زندہ درگور ہو گئے اور از جہاں و باز بیروں از جہاں کا نقشہ پیش کیا۔اور کثیر التعدادلوگوں نے رسمی اور ظاہری وقف کے ذریعہ بھی اسلام کی خاطر موت کی زندگی قبول کی اور دنیوی ترقیوں کو خیر باد کہا اور بعض نے صداقت کی خاطر جسمانی موت کا مزا بھی چکھا اور شہادت کا درجہ پایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں طبعاً ان کی جسمانی جدائی پر صدمہ محسوس کیا وہاں ایک بچے روحانی مصلح کی حیثیت میں ان کی غیر معمولی قربانی پر روحانی مسرت کا بھی اظہار فرمایا۔چنانچہ جب صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب مرحوم کو کابل کی حکومت نے احمدیت کی صداقت قبول کرنے کی بناء پر نہایت ظالمانہ طریق پر زمین میں کمر تک گاڑ کر سنگسار کر دیا تو حضرت مسیح موعود نے اس کی اطلاع ملنے پر لکھا کہ :- ”اے عبد اللطیف ! تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا۔اور جولوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔“ (تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۰)