سیرت طیبہ — Page 100
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود کی صحبت میں قریباً ستائیس سال گزارے۔اور وہ بڑے زیرک اور آنکھیں کھلی رکھنے والے بزرگ تھے۔وہ مجھ سے اکثر بیان کیا کرتے تھے کہ مجھے دنیا میں بے شمار لوگوں سے واسطہ پڑا ہے اور میں نے دنیا داروں اور دینداروں سب کو دیکھا اور سب کی صحبت اٹھائی ہے۔مگر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی شخص تکلفات سے کلی طور پر آزاد نہیں دیکھا۔اور یہی اس عاجز کا بھی مشاہدہ ہے یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی تمام زندگی ایک قدرتی چشمہ ہے جو اپنے ماحول کے تاثرات سے بالکل بے نیاز ہو کر اپنے طبعی بہاو میں بہتا چلا جاتا ہے میں ایک بہت معمولی سی بات بیان کرتا ہوں دنیا داروں بلکہ دین کے میدان میں پیروں اور سجادہ نشینوں تک میں عام طور پر یہ طریق ہے کہ ان کی مجلسوں میں مختلف لوگوں کے لئے ان کی حیثیت اور حالات کے لحاظ سے الگ الگ جگہ ملحوظ رکھی جاتی ہے مگر اپنے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں قطعا ایسا کوئی امتیاز نہیں ہوتا تھا بلکہ آپ کی مجلس میں ہر طبقہ کے لوگ آپ کے ساتھ اس طرح ملے جلے بیٹھے ہوتے تھے کہ جیسے ایک خاندان کے افراد گھر میں مل کر بیٹھتے ہیں اور بسا اوقات اس بے تکلفانہ انداز کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود بطاہر ادنی جگہ پر بیٹھ جاتے تھے اور دوسرے لوگوں کو غیر شعوری طور پر اچھی جگہ مل جاتی تھی۔بیسیوں مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ چار پائی کے سرہانے کی طرف کوئی دوسرا شخص بیٹھا ہوتا تھا اور پائنتی کی طرف حضرت مسیح موعود ہوتے تھے۔یاگی چارپائی پر آپ ہوتے تھے اور چادر وغیرہ والی چار پائی پر آپ کا کوئی مرید بیٹھا ہوتا تھا۔یا اونچی جگہ پر کوئی مرید ہوتا تھا اور نیچی جگہ میں آپ ہوتے