سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 101 of 315

سیرت طیبہ — Page 101

تھے۔مجلس کی اس بے تکلفانہ صورت کی وجہ سے بعض اوقات ایک نو وارد کو دھوکا لگ جا تا تھا کہ حاضر مجلس لوگوں میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کون سے ہیں اور کس جگہ تشریف رکھتے ہیں۔مگر یہ ایک کمال ہے جوصرف خدا کے ماموروں کی جماعتوں میں ہی پایا جاتا ہے کہ اس بے تکلفی کے نتیجہ میں کسی قسم کی بے ادبی کا رنگ پیدا نہیں ہوتا تھا بلکہ ہر شخص کا دل آپ کی محبت اور ادب اور احترام کے انتہائی جذبات سے معمور ہوتا تھا۔(سیرۃ المہدی جلد اول صفحه ۲۰۳ وسلسله احمد یہ وشمائل مصنفه عرفانی صاحب) (۹) مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ شروع میں جب مہمانوں کی زیادہ کثرت نہیں تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحت بھی نسبتا بہتر تھی آپ اکثر اوقات مہمانوں کے ساتھ اپنے مکان کے مردانہ حصہ میں اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور کھانے کے دوران میں ہر قسم کی بے تکلفانہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔گویا ظاہری کھانے کے ساتھ علمی اور روحانی کھانے کا دستر خوان بھی بچھ جاتا تھا۔ایسے موقعوں پر آپ عموماًہر مہمان کا خود ذاتی طور پر خیال رکھتے تھے۔اور اس بات کی نگرانی فرماتے تھے کہ اگر کبھی دستر خوان پر ایک سے زیادہ کھانے ہوں تو ہر شخص کے سامنے دستر خوان کی ہر چیز پہنچ جائے۔عموما ہر مہمان کے متعلق دریافت فرماتے رہتے تھے کہ کسی خاص چیز مثلاً دودھ یا چائے پالسی یا پان کی عادت تو نہیں۔اور پھر حتی الوسع ہر ایک کے لئے اس