سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 99 of 315

سیرت طیبہ — Page 99

۹۹ موجب ہوسکتا ہے بلکہ اس خیال سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے۔ایک اور موقعہ پر جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے کمرے میں تشریف رکھتے تھے اور اس وقت باہر سے آئے ہوئے کچھ مہمان بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھے کسی شخص نے دروازے پر دستک دی۔اس پر حاضر الوقت لوگوں میں سے ایک شخص نے اٹھ کر دروازہ کھولنا چاہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان صاحب کو اٹھتے دیکھا تو جلدی سے اٹھے اور فرمایا ٹھہریں ٹھہریں میں خود دروازہ کھولوں گا۔آپ مہمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔“ (سیرۃ المہدی حصہ اول روایت ۸۹ صفحه ۸۶) یہ دونوں واقعات بظاہر بہت معمولی نوعیت کے ہیں مگر ان سے اس غیر معمولی جذ بہ اطاعت پر زبر دست روشنی پڑتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں اپنے مطاع اور آقا اور محبوب کے لئے جاگزیں تھا۔اور ایک قدرتی چشمہ کے طور پر ہر وقت پھوٹ پھوٹ کر بہتا رہتا تھا۔آج کون ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایتوں کوملحوظ رکھتا ہے؟ (^) حضرت مسیح موعود کی زندگی تکلفات سے بالکل آزاد تھی۔ہمارے ماموں جان یعنی