سیرت طیبہ — Page 44
۴۴ میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔میں بنی نوع انسان سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔میں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بدعملی اور نا انصافی اور بداخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔“ اربعین نمبر اروحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۴۴) (۲) یہ ایک محض زبانی دعوی نہیں تھا بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ کی زندگی کا ہرلمحہ مخلوق خدا کی ہمدردی میں گذرتا تھا اور دیکھنے والے حیران ہوتے تھے کہ خدا کا یہ بندہ کیسے ارفع اخلاق کا مالک ہے کہ اپنے دشمنوں تک کے لئے حقیقی ماؤں کی سی تڑپ رکھتا ہے چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو آپ کے مکان ہی کے ایک حصہ میں رہتے تھے اور بڑے ذہین اور نکتہ رس بزرگ تھے روایت کرتے ہیں کہ جن دنوں پنجاب میں طاعون کا دور دورہ تھا اور بے شمار آدمی ایک ایک دن میں اس موذی مرض کا شکار ہورہے تھے انہوں نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علیحدگی میں دعا کرتے سنا اور یہ نظارہ دیکھ کر محو حیرت ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب کے الفاظ یہ ہیں کہ:۔