سیرت طیبہ — Page 43
۴۳ والے سے لیتے تھے اور اسی پر جماعت احمدیہ کی بنیاد قائم ہوئی یہ عہد دس شرائط بیعت کی صورت میں شائع ہو چکا ہے اور گویا یہ احمدیت کا بنیادی پتھر ہے۔اس عہد کی شرط نمبر ۴ اور شرط نمبر ۹ کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ ہر بیعت کرنے والا عہد کرے کہ :۔عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصا اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔۔۔۔عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا۔اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائے گا۔اشتہار تکمیل تبلیغ مورخه ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ ء کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۴۷) یہ وہ عہد بیعت ہے جو احمدیت میں داخل ہونے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدائی حکم کے ماتحت مقرر فرمایا اور جس کے بغیر کوئی احمدی سچا احمدی نہیں سمجھا جاسکتا۔اب مقام غور ہے کہ جو شخص اپنی بیعت اور اپنے روحانی تعلق کی بنیادہی اس بات پر رکھتا ہے کہ بیعت کرنے والا تمام مخلوق کے ساتھ دلی ہمدردی اور شفقت کا سلوک کرے گا اور اسے ہر جہت سے فائدہ پہنچانے کے لئے کوشاں رہے گا اور اسے کسی نوع کی تکلیف نہیں دے گا۔اس کا اپنا نمونہ اس بارے میں کیسا اعلیٰ اور کیسا شاندار ہونا چاہیے اور خدا کے فضل سے ایسا ہی تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بارہا فرمایا کرتے تھے کہ میں کسی شخص کا دشمن نہیں ہوں اور میرا دل ہر انسان اور ہر قوم کی ہمدردی سے معمور ہے۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں: