سیرت طیبہ — Page 45
۴۵ اس دعا میں آپ کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سننے والے کا پتہ پانی ہوتا تھا۔اور آپ اس طرح آستانہ الہی پر گریہ وزاری کر رہے تھے جیسے کوئی عورت دردزہ سے بیقرار ہو۔میں نے غور سے سنا تو آپ مخلوق خدا کے واسطے طاعون کے عذاب سے نجات کے لئے دعا فرما رہے تھے۔اور کہہ رہے تھے کہ الہی اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو گئے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔“ (سیرة مسیح موعود شمائل و اخلاق حصہ سوم صفحہ ۳۹۵ مولفه شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) ذرا غور کرو کہ آپ کے مخالفوں پر ایک عذاب الہی نازل ہو رہا ہے اور عذاب الہی بھی وہ جو ایک خدائی پیشگوئی کے مطابق آپ کی صداقت میں ظاہر ہوا ہے اور پیشگوئی بھی ایسی جس کے ملنے سے جلد باز لوگوں کی نظر میں آپ کی صداقت مشکوک ہو سکتی ہے مگر پھر بھی آپ مخلوق خدا کی ہلاکت کے خیال سے بے چین ہوئے جاتے ہیں اور خدا کے سامنے تڑپ تڑپ کر عرض کرتے ہیں کہ خدایا! تو رحیم وکریم ہے تو اپنی مخلوق کو اس عذاب سے بچالے اور ان کے ایمان کی سلامتی کے لئے اپنی جناب سے کوئی اور رستہ کھول دے۔(۳) اس سے بڑھ کر یہ کہ جب آریہ قوم میں سے اسلام کا دشمن نمبر ا یعنی پنڈت لیکھرام آپ کی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہوا تو آپ نے جہاں اس بات پر کہ خدا کی